سندھ اسمبلی میں جامعات پر بحث، بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
کراچی:
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جامعات، بسوں کی حالت اور دیگر امور پر بحث ہوئی جب کہ بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔
صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا، جس کے آغاز میں سانحہ اسلام آباد میں شہید ہونے والے کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ اس کے بعد سندھ اسمبلی میں محکمہ جامعات و بورڈز سے متعلق سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا، تاہم اپوزیشن ارکان نے ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کیا اور شور شرابہ کیا۔
ایوان میں شور شرابے کے دوران ریحانہ لغاری نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بات کرنے کا موقع ملے گا، ایوان کو چلنے دیں۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے ایوان میں شور کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بات کرنے کی اجازت دی جائے، جس پر ریحانہ لغاری نے کہا کہ آپ کو بات کرنے کا موقع دیا جائے گا، پہلے وقفہ سوالات مکمل ہونے دیں۔
اس دوران اپوزیشن کے دیگر ارکان کی جانب سے بھی شور شرابہ جاری رہا، جس پر کہا گیا کہ آپ کو موقع ملے گا، ایجنڈا کو چلنے دیں اور مختصر بزنس ہے، آپ بزنس کو چلنے دیں۔
اجلاس کے دوران وزیر اسماعیل راہو نے ایوان کو بتایا کہ پچھلے 17 سال میں 10 نئی یونیورسٹیاں بنی ہیں اور یونیورسٹیوں کے 16 کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز اور کیمپس میں بسوں کی کمی ہے، تاہم کورنگی اور ملیر سے کراچی یونیورسٹی کے لیے پوائنٹس چلتے ہیں۔
اس موقع پر رکن اسمبلی شارق جمال نے کہا کہ یونیورسٹی کی بسوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور خستہ حال بسوں کو جنازے کی بس کہا جاتا ہے۔
وزیر اسماعیل راہو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بسیں ایسی ہیں جو اچھی نہیں ہیں، کراچی یونیورسٹی کی 15 بسیں خراب پڑی ہیں جب کہ دیگر جو بسیں چل رہی ہیں وہ بہتر ہیں۔
اسی دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق کو پوائنٹ آف آرڈر پر بات نہ کرنے دینے پر احتجاج بھی کیا گیا۔
اجلاس میں رکن اسمبلی واجد علی نے ایوان کو بتایا کہ مجھے گزشتہ روز گرفتار کرکے تشدد کیا گیا، کورنگی پولیس نے جیب سے میرے پیسے نکالے، مذکورہ ایس ایچ او کو ہٹایا جائے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے سامنے قسم کھا کر کہا کہ میں کسی جرائم میں ملوث نہیں ہوں۔
اجلاس کے دوران وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی آڈٹ رپورٹ پیش کی، جسے بعد ازاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ارسال کر دیا گیا۔ اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جسے وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے ایوان میں پیش کیا۔
بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بات کرنے کی اجازت سندھ اسمبلی ایوان میں نے ایوان کہا کہ
پڑھیں:
25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
سٹی 42: 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگیا ۔
صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر دیگر مقامی قائدین اور کارکنان کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک پہنچ گئے ۔ مینار پاکستان، صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جلسے کی اجازت دینے پر وزیراعلی مریم نواز کے مشکور ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ اجازت دے دی گئی ہے۔جلسے کی تاحال زبانی اجازت دی گئی ہے تحریری اجازت ابھی نہیں دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو پروان چڑھایا ہے۔آج 23 جولائی کو آئے ہیں ساری رات یہیں ہیں۔جلسے کے دوران صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک کاٹیں گے۔
25 جولائی کو جلسہ 8 بجے شروع ہو گا۔بلاول بھٹو وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی قمر زمان کائرہ و دیگر قائدین خطاب کریں گے۔