سندھ اسمبلی نے شراب خانوں پر پابندی اور خرید و فروخت کیخلاف قرارداد مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
کراچی:
سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کردیا۔
شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی حکومت نے مخالفت کی۔ قرارداد میں صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کرنے اور تمام لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ شراب خانوں پر پابندی عائد کرنے سے معاشرے کے مختلف طبقات متاثر ہوں گے، اسی لیے حکومت اس تجویز کی حمایت نہیں کرسکتی۔ بحث کے بعد اسمبلی نے قرارداد کو مسترد کر دیا۔
جماعت اسلامی کے رکن فاروق فرحان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر جماعت اسلامی کی عوامی پریس کانفرنس تھی، ہمارے پہنچنے سے پہلے کیمپ اکھاڑ دیا تھا ساؤنڈ سسٹم اٹھالیا گیا۔
محمد فاروق نے کہا کہ میں پولیس کو قصور وار نہیں سمجھتا کیونکہ وہ صرف حکم کی تعمیل کرتی ہے، پولیس کو کس نے آڈر کیا بتایا جائے، مجھے کپڑوں سے پکڑ کر زبردستی گرفتار کیا گیا۔
وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ محمد فاروق کی گرفتاری کی تحقیقات کر رہے ہیں، ذمہ داران کے خلاف ایکشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے شاہراہ فیصل پر لائوڈ اسپیکر لگائے گئے اور دونوں ٹریک ٹریفک کے لیے بند کیے گیے۔ پوری رات لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کوئی ذمہ داری والی بات نہیں ہے۔ یہ معزز شہری نہیں کرتے۔ شاہراہ فیصل مین شاہراہ ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ عدالتوں کے احکامات ہیں کہ روڈ بند کرنے والوں کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات درج کریں۔ وکیل صاحبان نکلتے ہیں تھانے پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ جماعت کے کارکنان تھانے پر جاکر ایس ایچ او کی کرسی پر بیٹھ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر پابندی نے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔