راولپنڈی؛ دیور کی خاتون کو ہراساں کرنے کی کوشش، کپڑے بھی پھاڑ دیے، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
راولپنڈی:
تھانہ گوجر خان کی حدود میں ایک شادی شدہ خاتون نے اپنے سسر اور دیور پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پولیس میں مقدمہ درج کروا دیا، جس کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔
مدعیہ کے مطابق اس کا شوہر مزدوری کے سلسلے میں باہر رہتا ہے جبکہ وہ اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ گھر میں اکیلی ہوتی ہے۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کا دیور نیئر تعظیم، جو برطانیہ سے ایک ریپ کیس میں ڈی پورٹ ہو کر آیا ہے، آئے دن اسے ہراساں کرتا رہتا ہے۔
مدعیہ کا کہنا ہے کہ دو روز قبل نیئر تعظیم نے اپنے دوستوں کو گھر کی بیٹھک میں بٹھا کر چرس اور شراب نوشی کی، جس پر اس نے اپنی پھوپی کو بلایا جنہوں نے دوستوں کو وہاں سے جانے کا کہا۔ اس پر ملزم طیش میں آ گیا اور گولیاں مارنے کی دھمکیاں دیں۔
خاتون کے مطابق اگلی صبح جب وہ واش روم گئی تو نیئر تعظیم باہر کھڑا ہو گیا۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، ملزم نے دھکا دیا، کپڑے پھاڑ دیے اور مبینہ طور پر زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ مدعیہ نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور سسر و دیور کی ویڈیو بنا لی جو اس کے بقول اس کے پاس بطور ثبوت موجود ہے۔
راولپنڈی؛ ماں اور بیٹی کی نازیبا تصاویر وائرل کرکے ہراساں کرنے میں ملوث ملزم گرفتار
لاہور؛ طالبہ کو ہراساں اور دست درازی کرنے والے ملزمان گرفتار، ویڈیو بھی سامنے آگئی
لاہور؛ لڑکی کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار، ویڈیو بھی سامنے آگئی
مدعیہ نے مزید الزام لگایا کہ اس سے قبل بھی سسر کی جانب سے ایسی حرکت کی جا چکی ہے جبکہ نیئر تعظیم نے اس کے بیٹے کے ساتھ بھی مبینہ زبردستی کی تھی، تاہم چند بااثر افراد کی مداخلت سے اس وقت راضی نامہ ہو گیا تھا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم دوبارہ جنسی درندہ بن چکا ہے اور آئے دن ایسی حرکات کرتا رہتا ہے۔
واقعے کے بعد مدعیہ نے ون فائیو پر کال کی، پولیس موقع پر پہنچی اور درخواست دینے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں تھانہ گوجرخان میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق فریقین کے درمیان جائیداد کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں، اصل صورتِ حال تفتیش کے بعد واضح ہوگی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک