اے آئی سے دوستی کا رجحان کہیں حقیقی زندگی سے دوری کی شروعات تو نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کو ابتدا میں سوالات کے جوابات دینے اور مختلف کاموں میں مدد کے لیے تیار کیا گیا تھا مگر اب ایک غیر متوقع رجحان سامنے آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا لوگ تحمل سے سننا اور بیجا تنقید سے گریز مصنوعی ذہانت سے سیکھ سکتے ہیں؟
دنیا بھر میں بہت سے نوجوان ان اے آئی سسٹمز کو محض ایک ٹول نہیں بلکہ ایک ساتھی کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان آہستہ آہستہ اے آئی پر انحصار کی ایسی صورت اختیار کر رہا ہے جو روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف اس بات تک محدود نہیں کہ نوجوان آمنے سامنے میل جول کے بجائے ٹیکنالوجی کو ترجیح دے رہے ہیں بلکہ اصل تشویش یہ ہے کہ اے آئی کو جذباتی خلا پر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
متعدد نوجوان روزانہ گھنٹوں اے آئی پروگرامز سے گفتگو کرتے ہیں۔ یہ گفتگو صرف ہوم ورک یا معلومات تک محدود نہیں رہتی بلکہ جذباتی سہارا، حوصلہ افزائی اور سماجی رابطے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
بعض نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حقیقی دوستوں کے مقابلے میں اے آئی سے زیادہ بات کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: پالتو جانوروں کو گھر پر اکیلا چھوڑنا دشوار، مصنوعی ذہانت نے یہ مشکل بھی حل کردی
اس رجحان کی کشش قابل فہم ہے۔ اے آئی نہ تو تنقید کرتا ہے، نہ بات کاٹتا ہے اور نہ ہی کبھی مصروف ہوتا ہے اس لیے جو نوجوان خود کو تنہا، نظر انداز شدہ یا سماجی دباؤ کا شکار محسوس کرتے ہیں ان کے لیے چیٹ بوٹ ایک محفوظ جگہ بن جاتا ہے۔
ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیاں ان سسٹمز کو اس انداز میں ڈیزائن کرتی ہیں کہ وہ فوری رد عمل دیں، دلچسپ اور ہمدردانہ گفتگو کریں جس سے یہ عادت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک عام سا تعلیمی سوال آہستہ آہستہ جذباتی اظہار میں بدل جاتا ہے۔
تاہم اس سہولت کی ایک قیمت بھی ہے۔ سنہ 2024 میں اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک سروے کے مطابق جب بچے انسانوں کے بجائے ٹیکنالوجی پر جذباتی انحصار کرنے لگتے ہیں تو اس کا اثر ان کی ذہنی نشوونما، تعلیمی کارکردگی اور حقیقی تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔
چونکہ چیٹ بوٹس حقیقی احساسات کے بغیر ہمدردی کی نقل کرتے ہیں اس لیے نوجوانوں کو ایک ایسی وابستگی کا احساس ملتا ہے جو باہمی سمجھ بوجھ پر مبنی نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں حقیقی انسانی رشتے مشکل یا کم پرکشش محسوس ہونے لگتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہر معاملے میں مصنوعی ذہانت سے رجوع انسان کی ذہنی صلاحیت کس طرح متاثر کرتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کا حد سے زیادہ استعمال محض عادت نہیں رہتا۔ اس کی علامات میں دوستوں پر چیٹ بوٹس کو ترجیح دینا، استعمال کو گھر والوں سے چھپانا اور رسائی محدود ہونے پر بے چینی یا پریشانی شامل ہیں۔ یہ رویے نفسیات دانوں کے نزدیک مسئلہ بننے والے ٹیکنالوجی استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں جو حد سے زیادہ گیمنگ یا سوشل میڈیا کے استعمال سے مشابہ ہے۔
والدین اس مسئلے کی بروقت نشاندہی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کی علامات میں اسکرین ٹائم محدود ہونے پر موڈ میں اچانک تبدیلی، آف لائن سرگرمیوں میں دلچسپی کی کمی اور رات گئے تک اے آئی کا استعمال شامل ہے۔
عموماً ٹیکنالوجی پر گفتگو حفاظت اور اسکرین ٹائم تک محدود رہتی ہے مگر اے آئی کے معاملے میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نوجوان اسے کیوں اور کیسے استعمال کر رہے ہیں۔
بغیر تنقید کے مکالمہ شروع کرنا نوجوانوں کو اپنی عادات پر غور کرنے میں مدد دیتا ہے۔اے آئی پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے توازن پیدا کرنا زیادہ مؤثر ہے اور یہ سمجھانا ضروری ہے کہ مددگار استعمال اور انحصار میں کیا فرق ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 5 سال میں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ بھی آگے بڑھ جائے گی، ایلون مسک کا پیشگوئی
ماہرین واضح حدود اور معمولات مقرر کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جیسے اسکرین فری اوقات، بالمشافہ میل جول کی حوصلہ افزائی اور ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینا جو اسکرین سے وابستہ نہ ہوں۔
کچھ خاندان روزانہ اس بات پر بات کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے استعمال نے نوجوان کو کیسا محسوس کرایا نہ کہ صرف یہ کہ کتنا وقت استعمال ہوا۔ یہ سوچ مقدار کے بجائے معیار پر توجہ دیتی ہے جو جذباتی صحت کے لیے زیادہ مفید ہے۔
اس مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں۔ اے آئی اب ہماری زندگیوں کا مستقل حصہ ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے ایک مفید ذریعہ بھی لیکن جب یہ حقیقی انسانی تعلقات کی جگہ لینے لگے یا روزمرہ زندگی میں خلل ڈالے تو والدین اور سرپرستوں کو سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی۔
نوجوانوں کو اس نئے دور میں رہنمائی دینا صرف ڈیجیٹل قوانین کا معاملہ نہیں بلکہ جذباتی تربیت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا استعمال، ملازمین پر نئے نفسیاتی دباؤ کا خدشہ
اے آئی بذاتِ خود مسئلہ نہیں مگر شعور اور حدود کے بغیر یہ اس سہارا اور تعلق کا متبادل بن سکتا ہے جو صرف حقیقی انسانی رشتے ہی فراہم کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی اے آئی سے ذاتی دوستی اے آئی سے ذاتی دوستی کس حد تک مفید مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی سے ذاتی دوستی مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت اے ا ئی سے کے بجائے کرتے ہیں کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔