پی ایس ایل 11: پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ اور اسسٹنٹ کوچ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پشاور زلمی نے اوٹس گبسن کو ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس یل) سیزن 11 کے لیے ہیڈ کوچ جبکہ سابق ٹیسٹ کرکٹر اظہر محمود کو اسسٹنٹ اور بولنگ کوچ کو مقرر کر دیا۔
اس موقع پر چیئر مین پشاور زلمی جاوید آفریدی کا کہنا تھا کہ اوٹس گبسن کا تجربہ ٹیم کے لیے اہم ثابت ہوگا۔
اوٹس گبسن اس سے قبل ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقا کی قومی ٹیموں کی کوچنگ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اوٹس گبسن یارکشائر، بی پی ایل، دی ہنڈرڈ اور دیگر لیگز میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
دوسری جانب پشاور زلمی نے سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر اور تجربہ کار کوچ اظہر محمود کو آنے والے ایچ بی ایل پی ایس ایل سیزن 11 کے لیے ٹیم کا اسسٹنٹ اور بولنگ کوچ مقرر کر دیا ہے۔
We are thrilled to welcome @AzharMahmood11 as Peshawar Zalmi’s ???????????????????????????????????? ???????????????????? & ???????????????????????????? ???????????????????? for #HBLPSL 11.
He will be taking on a dual role this season, bringing his vast international, domestic, and PSL experience to strengthen the squad ⚡… pic.twitter.com/H2fHvOXSOv — Peshawar Zalmi (@PeshawarZalmi) February 10, 2026
اس متعلق چیئرمین پشاور زلمی جاوید آفریدی نے کہا کہ اظہر محمود کا بین الاقوامی اور مقامی سطح پر وسیع تجربہ انہیں ہمارے کوچنگ اسٹاف کے لیے بہترین انتخاب بناتا ہے۔ ان کی مہارت ہمارے بولرز کی تیاری اور پی ایس ایل سیزن 11 میں ٹیم کی بہترین کارکردگی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ تقرری پشاور زلمی کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ آئندہ سیزن کے لیے عالمی معیار کا کوچنگ سیٹ اپ اور مضبوط اسکواڈ تشکیل دے رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پشاور زلمی اوٹس گبسن پی ایس کے لیے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔