چیٹ جی پی ٹی کو اشتہارات کیوں نہیں دکھانے چاہییں، اینتھروپک نے دلائل سے واضح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اوپن اے آئی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات کی آزمائشی شروعات کے بعد حریف کمپنی اینتھروپک نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے دوستی کا رجحان کہیں حقیقی زندگی سے دوری کی شروعات تو نہیں؟
اوپن اے آئی نے 10 فروری 2026 سے امریکا میں فری اور Go صارفین کے ایک محدود گروپ کو چیٹ جی پی ٹی کے اندر اشتہارات دکھانے شروع کیے ہیں۔
اس پیشرفت کے جواب میں اینتھروپک نے ایک ہزار سے زائد الفاظ پر مشتمل ایک بلاگ پوسٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی گفتگو میں اشتہارات کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
اینتھروپک نے واضح کیا ہے کہ اس کا چیٹ بوٹ کلاڈ مستقبل میں بھی اشتہارات سے پاک رہے گا۔
اے آئی چیٹس میں اشتہارات ناموزوں قراربلاگ پوسٹ میں اینتھروپک کا کہنا ہے کہ سرچ انجنز اور سوشل میڈیا پر اشتہارات مؤثر ہوتے ہیں کیونکہ وہاں صارفین اسپانسرڈ مواد کی توقع رکھتے ہیں تاہم اے آئی چیٹس ایک بالکل مختلف ماحول ہیں۔
مزید پڑھیے: واٹس ایپ کو اے آئی حریفوں کو رسائی نہ دینا مہنگا پڑگیا، یورپی یونین حرکت میں آگئی
کمپنی کے مطابق صارفین چیٹ بوٹس کے ساتھ گفتگو کے دوران حساس معلومات، ذاتی مسائل اور پیچیدہ پیشہ ورانہ امور شیئر کرتے ہیں۔
اینتھروپک نے چیٹ کے اندر اشتہارات کو ایک ناموزوں قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سےاے آئی اور صارف کے درمیان اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ لفظی جنگ اس بات کو بھی اجاگر کر رہی ہے کہا کہ اے آئی کمپنیاں مستقبل میں اشتہارات کو کس طرح استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
اے آئی کے رویے پر اثر کا خدشہاینتھروپک نے خبردار کیا کہ اشتہارات اے آئی کے رویے کو بدل سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق اشتہارات کا بنیادی مقصد صارفین کو زیادہ وقت تک پلیٹ فارم پر رکھنا ہوتا ہے جو اس بات میں رکاوٹ بن سکتا ہے کہ اے آئی واقعی صارف کی مدد کر رہا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات دکھانے کا اعلان
بلاگ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر اے آئی کوئی تجویز دے تو صارف کیسے یقین کرے کہ وہ خالصتاً مدد کے لیے ہے یا کسی پراڈکٹ کی تشہیر کے لیے؟
اینتھروپک کے مطابق یہ مسئلہ اس لیے بھی سنگین ہے کیونکہ اب بہت سے لوگ اے آئی کو ایک مشیر کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں۔
کلاڈ کا کاروباری ماڈلاینتھروپک نے وضاحت کی کہ اس کا بزنس ماڈل اشتہارات کی بجائے سبسکرپشنز اور کاروباری معاہدوں پر مبنی ہے جس سے کمپنی کو صارفین کی توجہ یا ڈیٹا فروخت کیے بغیرکلاڈ کو بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: انتھراپک کا اپنے جدید ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.
کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی شاپنگ یا بکنگ جیسے کاموں میں معاون ہو سکتا ہے تاہم ایسے تمام اقدامات ہمیشہ صارف کی جانب سے شروع ہونے چاہییں نہ کہ اے آئی کی طرف سے مسلط کیے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اینتھروپک اینتھروپک کی چیٹ جی پی ٹی پر تنقید چیٹ جی پی ٹی چیٹ جی پی ٹی اشتہارات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی چیٹ جی پی ٹی اشتہارات میں اشتہارات چیٹ جی پی ٹی اشتہارات کی اوپن اے آئی اے ا ئی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔