سندھ اسمبلی نے شراب خانوں پر پابندی، خرید و فروخت کیخلاف قرارداد مسترد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شراب خانوں پر پابندی عائد کرنے سے معاشرے کے مختلف طبقات متاثر ہوں گے، اسی لیے حکومت اس تجویز کی حمایت نہیں کر سکتی۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے مخالفت کی۔ قرارداد میں صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کرنے اور تمام لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ شراب خانوں پر پابندی عائد کرنے سے معاشرے کے مختلف طبقات متاثر ہوں گے، اسی لیے حکومت اس تجویز کی حمایت نہیں کرسکتی۔ بحث کے بعد اسمبلی نے قرارداد کو مسترد کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شراب خانوں پر پابندی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔