انڈیا اور پاکستان کے درمیان 15 فروری کو ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میچ کی تصدیق کے بعد کولمبو کے لیے پروازوں کے ٹکٹ کئی گنا مہنگے ہوگئے ہیں۔

بڑے بھارتی شہروں سے کولمبو کے لیے پروازوں کے کرایے 3 گنا تک بڑھ گئے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات سے سری لنکا جانے والے کرایے بھی ایک ہزار 900 سے 2 ہزار 400 درہم تک پہنچ گئے ہیں، جو آف پییک اوقات میں ایک ہزار 200 سے ایک ہزار 500 درہم ہوتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان بھارت میچ نہ ہونے سے بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کا مالی نقصان متوقع

ممبئی سے کولمبو جانے والی براہِ راست اکانومی ٹکٹ کی قیمتیں 880 سے ایک ہزار 480 درہم کے درمیان ہیں، مگر 14 سے 16 فروری کے دوران قیمتیں تقریباً 2 ہزار 367 درہم تک پہنچ گئی ہیں۔

کچھ ایئر لائنز نے کرایوں میں اضافے کی حد بڑھا دی ہے، جیسے ایئر انڈیا 4 ہزار792 درہم اور انڈیگو 3ہزار589  درہم وصول کررہی ہے۔ سب سے سستے کنیکٹنگ آپشنز بھی 2 ہزار 769 درہم کے لگ بھگ ہیں۔

دہلی سے پروازوں کی صورتحال بھی اسی طرح ہے، جہاں اوسط ایک طرفہ اکانومی کرایے ایک ہزار درہم سے ایک ہزار 550 درہم کے درمیان ہیں، مگر میچ کے دنوں کے لیے راؤنڈ ٹرپ کی قیمتیں تقریباً 4 ہزاز845 درہم تک پہنچ گئی ہیں۔ سری لنکن ایئرلائنز نے کولمبو کے لیے 4 ہزار 431 درہم اور 4ہزار 66 درہم کی پروازیں بھی پیش کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاک-بھارت میچ کا فیصلہ ہوگیا، ’پاکستان کے بغیر کچھ ممکن نہیں، ایک بار پھر ثابت ہوگیا‘

چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے جنوبی شہر بھی اس بڑھتی ہوئی طلب سے متاثر ہوئے ہیں، جہاں ایک طرفہ اکانومی کرایے معمول کے مطابق 600 سے ایک ہزار 150 درہم کے درمیان ہیں، مگر میچ کے ویک اینڈ کے لیے انڈیگو اور سری لنکن ایئرلائنز کی پروازیں 2ہزار 155 سے 3 ہزار 664 درہم کے درمیان ہیں۔

متحدہ عرب امارات سے بھی کولمبو کے لیے طلب بڑھ رہی ہے۔ دبئی میں FitsAir کے سیلز مینیجر جان تھامس کے مطابق کمپنی نے 12 اور 16 فروری کے لیے اضافی پروازیں شامل کی ہیں اور مجموعی گنجائش بڑھا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرکرافٹ پہلے ہی تقریباً 60 فیصد بھرا ہوا ہے، اور پروازیں مزید بکنگز کے لیے دستیاب ہیں۔

جان تھامس نے کرکٹ شائقین کو مشورہ دیا کہ وہ ایک دو دن پہلے سفر کریں تاکہ بہتر سیٹیں مل سکیں اور کولمبو کا لطف بھی اٹھایا جا سکے۔

 سری لنکا کے سیاحتی شعبے کو فروغ ملنے کی توقع

کولمبو: سری لنکا کے لیے انڈیا اور پاکستان کے درمیان 15 فروری کو ہونے والا ٹی20 ورلڈ کپ میچ سیاحتی شعبے کے لیے خوشخبری ثابت ہو رہا ہے۔ ملک کا سیاحتی شعبہ حالیہ برسوں میں قدرتی آفات اور اقتصادی مسائل کی وجہ سے کئی بار متاثر ہوا ہے، تاہم اس میچ نے طلب میں واضح اضافہ کر دیا ہے۔

دبئی اور ناردن ایمریٹس میں کام کرنے والی سری لنکن ایئرلائنز کی سیلز مینیجر گایانی جے وارڈینے نے بتایا کہ وہ بڑھتی ہوئی بکنگز اور طلب دیکھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق، فی الحال ایئرلائن ہفتے میں 11 پروازیں چلاتی ہے، اور مسافر مختلف قومیتوں کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فروری عموماً سری لنکا کے لیے آف-پییک سیزن ہوتا ہے، لہٰذا یہ اچانک طلب ایک خوش آئند اضافہ ہے۔ زیادہ تر مسافر اپنی ہوٹل اور دیگر سیاحتی انتظامات آن لائن کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت میچ: سری لنکا کا پاکستان کے فیصلے پر اظہارِ تشکر

سفر کی طلب میں یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب میچ کے ارد گرد کچھ تنازعہ بھی پیدا ہوا۔ پاکستان نے ابتدائی طور پر 15 فروری کے میچ کو بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر حکومت، پاکستان کرکٹ بورڈ، سری لنکا کرکٹ، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے درمیان بات چیت کے بعد یہ فیصلہ واپس لیا گیا۔

اس اقدام سے میچ کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا، آئی سی سی کو ممکنہ 174 ملین ڈالر کے نقصان سے بچایا گیا، اور فوری طور پر ہوائی کرایوں اور سیاحت کی طلب میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انڈیا پاکستان ایئر لائنز ٹی20ورلڈکپ2026 سری لنکا سیاحت کرکٹ کولمبو پروازیں ہوائی کرایے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈیا پاکستان ایئر لائنز ٹی20ورلڈکپ2026 سری لنکا سیاحت کرکٹ کولمبو پروازیں

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود