پاک افغان سرحد کی بندش سے 200 ملین ڈالر کی ادویات کی برآمدات متاثر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید کے مطابق اکتوبر 2025 سے طورخم اور چمن سرحد کی بندش سے افغانستان میں داخلے کے منتظر ٹرکوں میں رکھی ادویات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پی پی ایم اے کے مطابق افغانستان پاکستان کی ادویات کی سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹس میں شامل ہے، جس کی مالیت 150 سے 200 ملین ڈالر ہے، جو دنیا بھر میں پاکستان کی کل ادویات کی برآمدات کا تقریباً 35 فیصد بنتی ہے۔
پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید کے مطابق طورخم اور چمن کی سرحدیں اکتوبر 2025 سے بند ہیں۔ سرحد پر ادویات سے بھرے ٹرک افغانستان کی مارکیٹ تک نہ پہنچ سکے، جس کے نتیجے میں مالی نقصانات ہوئے اور ملکی فارما کمپنیوں کے کیش فلو متاثر ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ادویات کی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔