کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کورکمانڈر پشاور کی موجودگی میں اہم اجلاس، عسکری اور سیاسی قیادت کا دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورہیڈ کوارٹر پشاور میں آج امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کورکمانڈر پشاور نے شرکت کی۔جیو نیوز کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگراسٹیک ہولڈرز کےساتھ ملاقات خوشگوار رہی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کابینہ سمیت 3 گھنٹے تک کور ہیڈ کوارٹرمیں رہے وزیر اعلیٰ اور کابینہ ارکان نے لنچ بھی کور ہیڈ کوارٹر میں کیا۔ لنچ کے دوران وزیر اعلیٰ اور محسن نقوی نے قریب بیٹھ کر گفتگو کی، وزیر اعلیٰ نے محسن نقوی سمیت دیگرشرکا سے مصافحہ بھی کیا۔امن وامان سے متعلق اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اجلاس میں صوبے میں مستقل قیامِ امن کے لیے بات چیت کی گئی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
سی ای ایس 2026 امتحانات کا شیڈول، فیڈرل پبلک سروس کمیشن آف پاکستان نے غلط رپورٹنگ پر قانونی کارروائی کی تنبیہ کردی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔