چیف آفیسرایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ کا یونین کونسل لوئی بیر بازار کا دورہ،صفائی، پارکنگ اور عوامی سہولیات کا جائزہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز )چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد ڈاکٹر انعم فاطمہ نے یونین کونسل لوئی بیر بازار کا دورہ کیا اور صفائی، پارکنگ اور عوامی سہولیات کا جائزہ لیا۔انہوں نے سیکرٹری یونین کونسل کو ہدایت کی کہ بازار میں صفائی کا موثر نظام یقینی بنایا جائے، پارکنگ کے مناسب انتظامات ہوں اور شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

ڈاکٹر انعم فاطمہ نے بازار اور گردونواح میں موجود تجاوزات فوری طور پر ختم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہدایت دی کہ تمام اسٹالز پر لگے ترپال اور شیڈ صاف ستھرے اور مناسب حالت میں ہوں تاکہ بازار کی خوبصورتی اور نظم و ضبط برقرار رہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی سہولیات کی بہتری اور صفائی ایم سی آئی کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے جنوری میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.

5 ارب ڈالر موصول بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے جنوری میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ٹرمپ سے ایفائے عہد؛ انڈونیشیا کی 8 ہزار فوجی اہلکاروں کو غزہ بھیجنے کی تیاری سپریم کورٹ کے حکم پر فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات وزیراعلی مریم نواز کا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی معاونت کیلیے 10 ارب روپے دینے کا اعلان مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں کیوں سیاست کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی ،، قائمہ کمیٹی مواصلات کا اجلاس ،، عبدالعلیم خان غیر حاضر،، ارکان سراپا احتجاج ،، تفصیلات سب نیوز پر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر انعم فاطمہ عوامی سہولیات یونین کونسل

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک