حکومتی اصلاحات سے آٹو سیکٹر چل پڑا، فروخت میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
کراچی: (نیوزڈیسک) حکومتی اصلاحات سے آٹو سیکٹر چل پڑا، پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچرز نے ڈیٹا جاری کر دیا۔
نئی ٹیکنالوجی اورآسان آٹو فنائسنگ گاڑیوں کی فروخت کو 43 ماہ کی بلندسطح پر لے آئی، پاما کے مطابق ایک سال میں گاڑیوں کی فروخت میں 36 فیصد اور ایک ماہ میں 74 فیصد کا بڑا اضافہ ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں گاڑیوں کی فروخت 43 فیصد اضافے سے 1 لاکھ 11 ہزار 377 یونٹس رہی، دسمبر 2025ء میں گاڑیوں کی فروخت 13 ہزار 280 یونٹس تھی۔
پاما کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں دو اور تین پہیوں والے آٹو یونٹس میں سالانہ 31 فیصد اضافہ ہوا، جنوری 2026 میں دو اور تین پہیوں والے آٹو یونٹس کی فروخت بڑھ کر 1 لاکھ 81 ہزار 790 رہی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے سات ماہ میں دو اور تین پہیوں والے یونٹس کی فروخت 32 فیصد بڑھ کر 11 لاکھ 5 ہزار 549 رہی۔
پاما کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ٹرکوں اور بسوں کی فروخت سالانہ 77 فیصد اضافے سے 621 یونٹس سے 1 ہزار 101 یونٹس رہی۔
ٹرکوں اوربسوں کی فروخت رواں مالی سال کے 7 ماہ میں 91 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 632 یونٹس رہی، ٹریکٹرز کی فروخت میں سالانہ 9 فیصد اور ماہانہ 26 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گاڑیوں کی فروخت کے مطابق ماہ میں
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔