Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:30:17 GMT

حکومتی اصلاحات سے آٹو سیکٹر چل پڑا، فروخت میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

حکومتی اصلاحات سے آٹو سیکٹر چل پڑا، فروخت میں اضافہ

کراچی: (نیوزڈیسک) حکومتی اصلاحات سے آٹو سیکٹر چل پڑا، پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچرز نے ڈیٹا جاری کر دیا۔
نئی ٹیکنالوجی اورآسان آٹو فنائسنگ گاڑیوں کی فروخت کو 43 ماہ کی بلندسطح پر لے آئی، پاما کے مطابق ایک سال میں گاڑیوں کی فروخت میں 36 فیصد اور ایک ماہ میں 74 فیصد کا بڑا اضافہ ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں گاڑیوں کی فروخت 43 فیصد اضافے سے 1 لاکھ 11 ہزار 377 یونٹس رہی، دسمبر 2025ء میں گاڑیوں کی فروخت 13 ہزار 280 یونٹس تھی۔

پاما کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں دو اور تین پہیوں والے آٹو یونٹس میں سالانہ 31 فیصد اضافہ ہوا، جنوری 2026 میں دو اور تین پہیوں والے آٹو یونٹس کی فروخت بڑھ کر 1 لاکھ 81 ہزار 790 رہی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے سات ماہ میں دو اور تین پہیوں والے یونٹس کی فروخت 32 فیصد بڑھ کر 11 لاکھ 5 ہزار 549 رہی۔

پاما کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ٹرکوں اور بسوں کی فروخت سالانہ 77 فیصد اضافے سے 621 یونٹس سے 1 ہزار 101 یونٹس رہی۔

ٹرکوں اوربسوں کی فروخت رواں مالی سال کے 7 ماہ میں 91 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 632 یونٹس رہی، ٹریکٹرز کی فروخت میں سالانہ 9 فیصد اور ماہانہ 26 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گاڑیوں کی فروخت کے مطابق ماہ میں

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا