نادرا نے محفوظ شناختی تصدیق کا جدید نظام متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) نادرا کی نئی سہولت ’نشان پاکستان‘ محفوظ شناختی تصدیق کا جدید نظام متعارف کرا دیا گیا۔
سرکاری اور ریگولیٹڈ نجی اداروں کے لئے آن لائن شناختی تصدیق کی سہولت ہوگی، رجسٹریشن، سبسکرپشن اور رسائی سمیت تمام سہولتیں ایک ویب پورٹل پر ملیں گی۔
بینکوں، ٹیلی کام اور مالیاتی سمیت ریگولیٹڈ نجی ادارے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے، حکومت پاکستان کے ڈیجیٹل اکانومی اناؤنسمنٹ پروجیکٹ کے تحت نادرا نے اقدام اُٹھایا، شناختی تصدیق کا عمل تیز، محفوظ اور مکمل ڈیجیٹل ہو گا۔
اِس اقدام سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا، شہریوں کا اعتماد بڑھے گا، نادرا آرڈیننس اور متعلقہ قواعد کے تحت نادرا شناختی تصدیق کی خدمات فراہم کرتا ہے، طویل دستاویزی کارروائی اور بار بار منظوری کے باعث پہلے مشکلات پیش آتی تھیں، ’نشان پاکستان‘ کی بدولت تمام تر کارروائی ایک جگہ، آن لائن اور مکمل ڈیجیٹل ہوگی۔
آن بورڈنگ تیز، شفاف اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہوگی، ڈیٹا زیادہ محفوظ اور خدمات کی فوری فراہمی ممکن ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔