علامتی اقدامات نہیں خواتین کیلئے باوقار اور محفوظ نظام یقینی بنانا ناگزیر ہے، اُم لیلیٰ اظہر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور یورپی اتحاد کے تعاون سے حقوقِ پاکستان 2 منصوبے کے تحت نجی شعبے میں صنفی مساوات کے موضوع پر کراچی میں پہلا صوبائی مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔
اجلاس کی صدارت چیئر پرسن قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں محترمہ اُم لیلیٰ اظہر نے کی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ محض علامتی اقدامات کے بجائے خواتین کے لیے باوقار، محفوظ اور مساوی کام کے مواقع اور مؤثر داد رسی کے نظام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
اُم لیلیٰ اظہر نے کہا کہ کراچی جو ملک کا معاشی مرکز اور نجی روزگار کا بڑا محور ہے، اس مکالمے کے آغاز کے لیے ایک موزوں مقام ہے، جہاں خواتین کو رسمی اور غیر رسمی شعبوں میں متعدد عملی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ملازمت کے دوران امتیاز، ہراسانی اور محنت کشوں کے حقوق سے متعلق قوانین موجود ہیں، تاہم کمزور نفاذ، ادارہ جاتی ہم آہنگی کا فقدان اور طاقت کے عدم توازن کے باعث خواتین کو بھرتی، مساوی اجرت، ملازمت کے تحفظ، پیشہ ورانہ ترقی اور شکایات کے ازالے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔
مشاورتی اجلاس میں نجی شعبے، مالیاتی اداروں، ٹیکسٹائل و ملبوسات، صنعت، خدماتی شعبے، گھریلو اور غیر رسمی محنت سے وابستہ خواتین، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور خواتین کے حقوق کے نمائندوں نے شرکت کی۔
گروہی مباحثوں کے دوران شرکاء نے عملی تجربات کی روشنی میں سفارشات پیش کیں، جن میں کام کی جگہ پر مساوی پالیسیاں، اجرت میں برابری، ہراسانی سے تحفظ، مؤثر شکایتی نظام اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔
چیئرپرسن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صنفی مساوات محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی اور سماجی انصاف کی بنیاد ہے۔
اجلاس کی سفارشات قومی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کا حصہ بنیں گی، جو آئندہ پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوں گی۔ یہ مشاورتی عمل پشاور، لاہور اور کوئٹہ میں بھی جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :