حریت کانفرنس کی 11 فروری کو مقبول بٹ کے یوم شہادت پر مکمل ہڑتال کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
بھارت نے محمد افضل گورو کو 9 فروری 2013ء کو اور محمد مقبول بٹ کو 11 فروری 1984ء کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی تھی۔ ان کی میتیں جیل کے احاطے میں ہی دفن ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے ممتاز آزادی پسند رہنماﺅں محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کے ایام شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لوگوں سے بدھ (11 فروری) کو مکمل ہڑتال کرنے کی اپیل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے ایک بیان میں کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں ایک اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری ظلم و جبر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ بھارت نے محمد افضل گورو کو 9 فروری 2013ء کو اور محمد مقبول بٹ کو 11 فروری 1984ء کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی تھی۔ ان کی میتیں جیل کے احاطے میں ہی دفن ہیں۔ اجلاس میں تحریک آزادی کے تقریباً پانچ لاکھ شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے حق خودارادیت کے مقدس مقصد کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
اجلاس میں مادر وطن کے عظیم بیٹوں محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو بھی شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا اور حریت پسند کشمیری عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ 11 فروری کو مکمل ہڑتال کریں اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ مادر وطن کے ان عظیم سپوتوں نے کشمیری نسلوں کے مستقبل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ محمد مقبول بٹ، محمد افضل گورو اور دیگر شہداء کی قربانیاں جموں و کشمیر کی سیاہ رات میں روشنی کی کرن ہیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ بھارت کشمیری عوام کو اس جرم کی پاداش میں جو انہوں نے کیا ہی نہیں، پھانسی پر لٹکا کر ان کے جذبہ آزادی کو نہیں توڑ سکتا۔ اجلاس میں بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کے غیر انسانی اور سفاکانہ طرز عمل کی مذمت کرتے ہوئے جاری مزاحمتی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں امریکہ، اقوام متحدہ، او آئی سی اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر دستخط کنندہ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
اجلاس میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ بھارتی افواج کے بدترین محاصرے میں زندگی گزارنے والے کشمیریوں کی حالت زار کا نوٹس لے جہاں انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم کر کے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر حریت پسند تنظیموں نے بھی سرینگر میں اپنے الگ الگ بیانات میں 11 فروری کو ہڑتال کی اپیل کی۔ دریں اثناء مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن میں لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ 11 فروری کو ممتاز کشمیری رہنما شہید محمد مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر مکمل ہڑتال کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خراج عقیدت پیش محمد افضل گورو محمد مقبول بٹ حریت کانفرنس مکمل ہڑتال اجلاس میں اور محمد فروری کو دیا گیا پیش کیا گیا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔