حریت کانفرنس کا پاکستانی عوام کی حمایت پر شکریہ‘ ترلائی واقعے کی شدیدمذمت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر اسلام آباد میں تحریکِ آزادی کشمیر کے عظیم سپوتوں، شہیدِ ملت محمد مقبول بٹ اور شہیدِ کشمیر محمد افضل گورو کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک پُروقار دعائیہ تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غلام محمد صفی نے کہا کہ مقبول بٹ اور افضل گورو کی پھانسی بھارتی جمہوری دعووں پر ایک بدنما داغ ہے۔ سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے یومِ یکجہتی کشمیر (5 فروری) کے موقع پر پاکستانی عوام کی والہانہ محبت اور حمایت پر دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی مدد کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخشتی ہے۔ شرکانے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردانہ واقعے کی شدید مذمت کی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ تقریب میں ڈائریکٹر لبریشن سیل راجا افسر خان، نجیب غفور، محمود احمد غازی اور میڈم شمیم شال سمیت دیگر حریت رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور شہدا کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔