سینیٹ اجلاس: معمول کی کارروائی معطل کرکے اسلام آباد خودکش حملے پر بحث
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
فوٹو: اے ایف پی
سینیٹ اجلاس میں معمول کی کارروائی معطل کرکے اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے خودکش حملے پر بحث اور دھماکے کے شہدا کے لیے دعا کروائی گئی۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ناصر عباس نے کہا کہ حملے کے وقت پولیس کا کوئی فرد وہاں موجود نہ تھا، سیکیورٹی کا انتظام انتہائی ناقص ہے، سیکیورٹی کا بہتر بندوبست ہوتا تو اس بڑے سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ مسجد خودکش دھماکے پر اسلام آباد پولیس اور وزارت داخلہ جوابدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عون عباس نے اپنی نماز توڑی اور خود کش حملہ آور کو پکڑ لیا، اگر عون عباس دہشت گرد کو نہ پکڑتا تو حملہ مزید تباہ کن ہوتا۔ سب سے پہلے پولیس اور آئی جی اسلام آباد پہنچے، سب سے تاخیر سے ایمبولنس دھماکے کی جگہ پر پہنچی، اسلام آباد میں بروقت لوگوں کو اسپتال پہنچانے کا بھی بندوبست نہیں، زخمی باپ بیٹے کی لاش اٹھا کر بیٹھا تھا۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ایک گھر کے 6، 6 لوگ بھی شہید ہوئے، کسی سے پوچھا گیا؟ کوئی قابل احتساب ہے؟ اگر ایمرجنسی نافذ ہوتی تو بہت سے لوگوں کی جان بچ سکتی تھی، انتہا پسندوں کو لگام دی جائے، پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اسلام آباد واقعہ قابل مذمت ہے، دہشت گردی کی عفریت کو ختم کرنا پاکستان کا عزم ہے، دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی ایک عظیم بیٹی بے نظیر نے اپنی زندگی گنوائی، نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات شروع کیے اور پاکستان کی دہشت گردی سے جان چھڑائی۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کے بھی سب گواہ ہیں اس ناسور نے دوبارہ کب جنم لیا؟ ہم امن کو برقرار اور ان کو نیست و نابود کریں گے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ شواہد سے واضح ہے حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی داعش نے افغانستان میں کی، افغان طالبان کی سرپرستی میں دہشت گردی کا گٹھ جوڑ علاقائی امن کے لیے بدستور سنگین خطرہ ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا یہ ثابت ہے کہ دہشت گرد نے تربیت افغانستان میں حاصل کی، دہشت گرد حملوں کے پیچھے بھارت ہے جو اپنی پراکسیز کے ذریعے کارروائیاں کرواتا ہے، بھارتی پراکسیز قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اتنی اہم بحث ہو رہی اور ایک وزیر ایوان میں موجود نہیں، یہ بےحسی ہے۔
نورالحق قادری نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ کو فوری ایوان میں بلایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد نے کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
سٹی 42: ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی لاہور پہنچ گئے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا استقبال کیا۔
گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان ودیگرایئرپورٹ پر موجود تھے۔ایرانی وزیر داخلہ نے مزاراقبال اور دربار بی بی پاکدامن پر حاضری دی ۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بھی ہمراہ تھے۔
ایرانی وزیر داخلہ نے مزار اقبال پر پھول رکھے ،امن و استحکام کیلئے دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی