جاپان کے سفیر اکاماتسو کی طرف سے شہنشاہِ جاپان کی 66ویں سالگرہ کے موقع پر استقبالیہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
جاپان کے سفیر اکاماتسو کی طرف سے شہنشاہِ جاپان کی 66ویں سالگرہ کے موقع پر استقبالیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )شہنشاہِ جاپان عزت مآب ناروہیتو کی 66ویں سالگرہ کے موقع پر جاپان کے سفیر برائے پاکستان، عزت مآب مسٹر اکاماتسو شوئیچی نے 10 فروری کی شام اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ایک پروقار استقبالیہ دیا۔ پاکستان کے صدر عزت مآب آصف علی زرداری نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شرکت کی، جبکہ دیگر معزز شخصیات نے بھی اس موقع کی رونق بڑھائی۔
مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اور شہنشاہِ جاپان کے تخت نشین ہونے کے بعد آٹھویں سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے سفیر اکاماتسو نے اس بات پر دلی مسرت اور تشکر کا اظہار کیا کہ انہیں یہ تقریب اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور معزز مہمانوں کے ہمراہ منانے کا موقع ملا۔
سفیر نے جاپان میں حالیہ سیاسی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ایوانِ زیریں (ہاس آف ریپریزنٹیٹوز) کے کامیاب عام انتخابات اور حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو وزیرِ اعظم سناے تاکائیچی جاپان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کی قیادت میں حاصل ہونے والے مضبوط مینڈیٹ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی، کثیرالجہتی تعاون اور آزاد و کھلے ہند-بحرالکاہل (Free and Open Indo-Pacific) کے لیے جاپان کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان کے اہم کردار کو سراہا اور عالمی و علاقائی چیلنجز پر پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔
دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے سفیر اکاماتسو نے اوسا کا-کانسائی ایکسپو 2025 میں پاکستان پویلین کی کامیابی کا ذکر کیا، جس نے نمائش کے زمرے میں برانز پرائز اور ایڈیٹرز چوائس ایوارڈ حاصل کیے اور جاپانی عوام میں پاکستان کے بارے میں قربت اور دلچسپی کے احساس کو فروغ دیا۔ ایکسپو نے دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطحی تبادلوں کی بحالی کی بھی علامت بنائی، جن میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیراعلی پنجاب مریم نواز اور وزیرِ اعظم کے خصوصی مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے جاپان کے سرکاری دورے شامل ہیں۔
آئندہ سال کے لیے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سفیر نے تین اہم شعبوں کی نشاندہی کی جن میں عوامی سطح پر روابط اور باہمی فہم و تعاون کو فروغ دینا، جن میں اس سال خزاں میں جاپان کے صوبہ آیچی کے شہر ناگویا میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز اور ایشین پیرا گیمز جیسے ایونٹس کے ذریعے عوامی تبادلے شامل ہیں؛اقتصادی تعاون، جس میں سرکاری ترقیاتی معاونت (ODA) کے تحت ین قرضہ منصوبوں کی بحالی، اور پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آئی ٹی صنعت میں تکنیکی اور افرادی صلاحیتوں کے تعاون کو وسعت دینا
جاپانی کھانوں کا فروغ، جنہیں جاپانی عوام کی طویل عمری کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا، اور سوشی، ٹیمپورا کے ساتھ ساتھ واگیو بیف جیسے معروف پکوانوں کا تعارفسفیر اکاماتسو نے اسلام آباد میں ایک مسجد پر حالیہ دہشت گرد حملے کے متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جاپان کی حکومت ہر قسم کی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتی ہے اور حکومتِ پاکستان اور عوامِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ اپنے اختتامی کلمات میں سفیر اکاماتسو نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاپان اور پاکستان کے درمیان عوامی روابط مزید فعال ہوں گے اور نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ایک مضبوط اور تعمیری شراکت داری پروان چڑھے گی۔
استقبالیے میں خصوصی طور پر تیار کردہ جاپانی واگیو بیف پیش کیا گیا۔ تقریب میں جاپانی روایتی فنون، اکیبانا اور بونسائی کی نمائش بھی شامل تھی، جنہیں لاہور سوگیستو اسٹڈی گروپ اور لاہور بونسائی سوسائٹی نے پیش کیا۔ اس کے علاوہ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA) اور جاپانی کمپنیوں بشمول ٹویوٹا انڈس موٹرز، سوزوکی، ہونڈا، ہینو، آئیڈیمِتسو، سوجِتسو اور کومون کے اسٹالز بھی لگائے گئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی پاکستان میں کشیدگی میں اضافہ کا سبب: اقوام متحدہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی پاکستان میں کشیدگی میں اضافہ کا سبب: اقوام متحدہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان نے با آسانی امریکا کو شکست دیکر پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا پاک فضائیہ کی جنوبی زون میں جنگی تیاریوں کا شان دار مظاہرہ عمران خان اور بشری بی بی کے درمیان ملاقات،ملاقات سلمان صفدر سے پہلے کرائی گئی، جیل ذرائع وفاق اور خیبرپختونخوا ایک پیج پر، ملاکنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو دینے کا فیصلہ پاکستان میں جاپان کے سفیر کی میزبانی میں جاپان پاکستان بزنس سیمینار 2026 منعقدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سفیر اکاماتسو جاپان کے سفیر جاپان کی
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔