وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کوئٹہ میں شیخ زید اسپتال کوئٹہ میں بیگم کلثوم نواز پیڈز کارڈیالوجی ونگ کا سنگ بنیاد رکھا دیا ہے۔

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ شیخ زاہد اسپتال کوئٹہ میں بیگم کلثوم نواز پیڈز کارڈیالوجی ونگ کا سنگ بنیاد رکھنا ایک نیک اور قابلِ تحسین اقدام ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بلوچستان کے عوام کے لیے ایک فراخدلانہ تحفہ ہے۔ اس منصوبے سے بالخصوص معاشی طور پر نادار اور کمزور طبقے کے افراد کو اپنی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے لیے 10 ارب روپے کی معاونت کا اعلان

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صوبے میں صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو عوام دوست سوچ اور عملی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل یہ بات وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے شیخ زاہد ہسپتال کوئٹہ میں بیگم کلثوم نواز پیڈز کارڈیالوجی ونگ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ ن پارلیمنٹرینز، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف سے بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کی ملاقات میں کیا کچھ طے پایا؟

گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہم اپنے خیر خواہوں کی ہمدردی اور بشر دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس خصوصی تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بے شمار مریضوں کے لیے راحت کا باعث بنے گا اور مقامی مخیر حضرات کو بھی غریب اور نادار افراد کی بے لوث خدمت کے لیے ترغیب دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بلوچستان بیگم کلثوم نواز پیڈز کارڈیالوجی ونگ جعفر خان مندوخیل شیخ زید اسپتال کوئٹہ گورنر بلوچستان وزیراعلٰی پنجاب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان جعفر خان مندوخیل شیخ زید اسپتال کوئٹہ گورنر بلوچستان پنجاب مریم نواز گورنر بلوچستان اسپتال کوئٹہ سنگ بنیاد کے لیے نے کہا

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق