سعودی عرب اور صومالیہ کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
صومالیہ اور سعودی عرب نے فوجی تعاون سے متعلق ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیئے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس معاہدے صومالی وزیر دفاع احمد معلم فقی اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ریاض میں ہونے والی ایک باوقار تقریب میں کیے۔
جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعلقات کو مضبوط بنانا اور مشترکہ فوجی تربیت، تجربات کے تبادلے، اور دفاعی صلاحیتوں میں بہتری لانا شامل ہے۔
ابھی معاہدے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں مشترکہ مفادات اور شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
تاہم یہ قدم خطے میں بڑھتی عسکری و سیاسی کشیدگی کے دوران اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
صومالیہ نے گزشتہ ماہ قطر کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، جس میں فوجی تربیت اور دفاعی تجربات کے تبادلے شامل ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیل نے دسمبر میں صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کیا، جس پر صومالی حکومت نے سخت تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیے تھے، الزام کے ساتھ کہ امارات کے اقدامات صومالیہ کی قومی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہے تھے۔
خلیج اور مشرقی افریقہ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یمن اور سوڈان سے جڑے تنازعات شدت اختیار کر چکے ہیں۔
سعودی عرب اور صومالی فوجی تعاون کا یہ معاہدہ خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
صدر حسن شیخ محمود نے کہا ہے کہ صومالیہ کسی بھی صورت اسرائیلی فوجی اڈے کی اجازت نہیں دے گا اور ایسی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔