انڈونیشیا کا غزہ میں 8 ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جکارتہ: غزہ میں جنگ بندی کے بعد امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کے تحت انڈونیشیا نے ایک اہم سفارتی و عسکری پیش رفت کرتے ہوئے کثیر ملکی امن فورس کے لیے اپنی فوج بھیجنے کی تیاری کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت تشکیل دیے گئے عالمی فورم کے تناظر میں انڈونیشیا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ غزہ میں امن مشن کے لیے آٹھ ہزار فوجی فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
انڈونیشین آرمی چیف نے بتایا کہ ابتدائی منصوبہ بندی کے تحت غزہ میں تعینات کیے جانے والے دستوں کی تعداد آٹھ ہزار تک ہو سکتی ہے، جو کثیر ملکی امن فورس کا ایک نمایاں حصہ ہوں گے، فوجیوں کو ممکنہ طور پر سیکیورٹی، انسانی امداد کی فراہمی اور امن کے قیام سے متعلق ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
اس پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے انڈونیشیا کے صدارتی ترجمان پراسیٹو ہادی نے بتایا کہ مجوزہ کثیر ملکی فورس میں مجموعی طور پر بیس ہزار کے قریب فوجی شامل کیے جانے کا امکان ہے، جن میں سے انڈونیشیا آٹھ ہزار اہلکار فراہم کر سکتا ہے، حتمی معاہدے کی صورت میں فورس کی تعیناتی سے قبل مختلف سفارتی اور مالی معاملات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا خود کو اس ممکنہ مشن کے لیے تیار کر رہا ہے، تاہم بورڈ آف پیس کی مستقل رکنیت کے لیے درکار ایک ارب ڈالر کی ادائیگی اور دیگر امور پر مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ فورس کے مینڈیٹ، اختیارات اور ذمہ داریوں کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی فوجی تعیناتی کے حوالے سے آخری اعلان کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بورڈ آف پیس کے آئندہ اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک بڑی فنڈ ریزنگ کانفرنس منعقد کیے جانے کا بھی امکان ہے، جس کا مقصد جنگ سے تباہ حال علاقوں کی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے عالمی سطح پر مالی معاونت حاصل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی، تعمیرِ نو اور پائیدار امن کے قیام کے لیے قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے متعدد اہم ممالک شامل ہو چکے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، مصر، اردن، کویت اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اس پلیٹ فارم میں شمولیت اختیار کر کے مشترکہ کاوشوں کے ذریعے خطے میں امن کے قیام کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو غزہ میں نہ صرف سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے بلکہ تعمیرِ نو اور انسانی امداد کے عمل میں بھی تیزی آنے کا امکان ہے، تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار عالمی اتفاقِ رائے اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ حکمتِ عملی پر ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔