پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر بات چیت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطحی رابطوں کا آغاز ہو گیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری اور انڈونیشین سوورن ویلتھ فنڈ دانانتارا کے چیف ایگزیکٹو آفیسرروزان روزلانی گزشتہ شام اسلام آباد پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 40 جے ایف-17 طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر مذاکرات جاری، رائٹرز کی رپورٹ
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق انڈونیشین وزیرکو اسلام آباد ایئرپورٹ پر وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (ایسٹ ایشیا پیسیفک) اور پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر نے استقبال کیا۔
اپنے دورے کے دوران روزان روزلانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے جامع ملاقات کریں گے۔
مجوزہ ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت نے انڈونیشیا کے صدر کو ’نشان پاکستان‘ سے نواز دیا
یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے اور باہمی مفاد کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار انڈونیشیا انڈونیشین وزیر پاکستان تجارت دفتر خارجہ سرمایہ کاری شراکت داری وزیر خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار انڈونیشیا انڈونیشین وزیر پاکستان دفتر خارجہ سرمایہ کاری شراکت داری پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سرمایہ کاری
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔