کیا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان برف پگھل رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان رابطوں اور اعتماد سازی کے عمل میں تیزی آتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟
وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان کے حالیہ بیان اور سینیئر صحافیوں کے تجزیوں نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ سیاسی ماحول میں تبدیلی آ رہی ہے اور حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلنے لگی ہے۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ جمعرات تک پی ٹی آئی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہو جائے۔
دوسری جانب انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بھی قائم کی ہے اور مذاکرات کسی بھی وقت شروع ہو سکتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اب اسلام آباد کی جانب کوئی مارچ نہیں کیا جائے گا اور بانی چیرئین عمران خان کی جانب سے بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کال نہیں دی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی کنٹینر اسلام آباد آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا
وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان اڈیالہ جیل میں ملاقات جلد متوقع ہے جو ممکنہ طور پر ایک یا 2 ہفتوں میں ہو سکتی ہے اور یہ ملاقات وزیر اعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات سے بھی پہلے ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پہلے ہی طے کر دی ہیں جن میں کسی غیر آئینی مطالبے کو قبول نہ کرنا شامل ہے۔
اختیار ولی خان کے مطابق اگر مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو نئے انتخابات کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا اور پی ٹی آئی سے بات چیت آئین و قانون کے دائرے میں ہی ہوگی۔
سینیئر صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان برف کافی حد تک پگھل چکی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اگلے ہفتے یا رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں گے۔
لحاظ علی کے مطابق اس اعتماد سازی میں 2 اہم شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا جن میں بیرسٹر محمد علی اور صوبائی کابینہ کے ایک اہم وزیر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان روابط کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ صوبائی حکومت اور ادارے مل کر کام کریں گے، احتجاج پرامن ہوگا اور فوجی آپریشنز سے متعلق قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
اب کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے ہوا کہ وزیراعلیٰ بیانات میں سخت لہجہ رکھ سکتے ہیں تاہم عملی طور پر کسی تصادم کی طرف نہیں جائیں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج میں اب اجتماعی استخارہ ہوگا، شیرافضل مروت کا طنز
اسی پس منظر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا 8 فروری کے شٹر ڈاؤن احتجاج میں منظرِ عام سے غائب رہنا بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا۔
وزیراعلیٰ کی آفیشل میڈیا ٹیم یا پی ٹی آئی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی تاہم پارٹی کے سوشل میڈیا سے وابستہ ایک رہنما نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ نے احتجاج میں شرکت نہیں کی۔
سینیئر صحافی و تجزیہ کار عارف حیات کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی وفاقی حکومت اور اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا اظہار وزیراعظم سے ملاقات، اپیکس کمیٹی کے اجلاس اور کور کمانڈر پشاور سے روابط سے ہوتا ہے۔
عارف حیات کے مطابق یہ تمام پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کچھ معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے اور کچھ طاقتور حلقے بھی نرم مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہڑتال کی ناکامی پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ ثابت ہوئی، عوام نے انتشار کی سیاست مسترد کردی، وفاقی وزرا
ان کا کہنا ہے کہ احتجاج میں عدم شرکت بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں عمران خان اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی اور حکومت مذاکرات چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی اور حکومت مذاکرات چیئرمین پی ٹی ا ئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی پی ٹی ا ئی کے درمیان حکومت اور سے ملاقات پی ٹی آئی کے مطابق کے لیے رہی ہے ہے اور
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔