کراچی منتقل ہونے پر صبا قمر کا استغفر اللہ کہنا، جویریہ عباسی نے آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
صبا قمر کے مستقل طور پر کراچی منتقلی پر دیا گیا بیان اب بھی شوبز کی دنیا میں زیر بحث ہے جس پر اب تک تنقید اور پھر جواب در جواب کا سلسلہ جاری ہے۔
معروف میزبان اور مزاحیہ اداکار احمد علی بٹ کے پوڈ کاسٹ میں اس بار مہمان جویریہ عباسی تھیں جو اپنی دلکشی اور منجھی ہوئی اداکاری کے باعث کافی شہرت رکھتی ہیں۔
احمد علی بٹ سے گفتگو میں جویریہ عباسی نے ساتھی اداکارہ صباقمر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر جس نے آپ کو شہرت دی، اس کا احترام کرنا چاہیے۔ اس طرح کے جملے مناسب نہیں ہیں۔
جویریہ عباسی نے کہا کہ ہر شخص کو اپنے شہر سے دلی لگاؤ ہوتا ہے اور وہ دنیا میں کہیں بھی بس جائے اس کے دل میں اس کا آبائی علاقہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے جس کے خلاف وہ نہ کوئی بات کرتا ہے اور نہ سنتا ہے۔
جویریہ عباسی کے انٹرویو کا یہ کلپ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور ایک بار پھر کراچی کی حمایت اور مخالفت میں بحث چھڑ گئی۔
اسی دوران اداکارہ صبا قمر نے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شیئر کی جس میں وضاحت کی گئی کہ استغفراللہ ایک جملہ ہے جو اللہ سے معافی مانگنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لوگوں نے میری بات کو غلط سمجھا۔
صبا قمر نے ایک پوسٹ میں زور دیا کہ ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ آزادی اظہار رائے اہم ہے اور کسی کو خوف یا پابندی کی وجہ سے اپنے خیالات چھپانے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک انٹرویو میں صبا قمر نے کراچی منتقل ہونے کے سوال پر برملہ جواب دیا تھا کہ استغفراللہ ۔۔
یہ الفاظ کراچی کے رہائشیوں کو نہایت ناگوار گزرے تھے اور اُس وقت بھی صبا قمر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جویریہ عباسی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔