نارتھ کراچی میں اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور کے الیکٹرک کے عملے میں ہاتھا پائی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی کے قریب اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور کے الیکٹرک کے عملے کے درمیان تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہوگیا، جس دوران مشتعل افراد ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق جھگڑے کے دوران دونوں اداروں کے عملے کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی تاہم کسی بھی فریق کی جانب سے گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔
ایس ایچ او تھانہ اجمیر نگری فیض الحسن کے مطابق علاقے میں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری تھا۔ اس ہی آپریشن کے دوران کے الیکٹرک اور اینٹی انکروچمنٹ ٹیم کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جو بعد میں شدت اختیار کرگئی۔
سینئیر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ عمار خان کے مطابق کے الیکٹرک کو تجاوزات کے حوالے سے تین بار نوٹس جاری کیے جاچکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج (منگل) کے روز بھی اینٹی انکروچمنٹ کا عملہ کے الیکٹرک کے دفتر تجاوزات ہٹانے کے لیے گیا تو کے الیکٹرک کے عملے کی جانب سے مغلظات دی گئیں، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
پولیس کے مطابق معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کرلیا گیا ہے دونوں محکموں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جسکے بعد فریقین میں صلح ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اینٹی انکروچمنٹ کے الیکٹرک کے کے درمیان کے مطابق کے عملے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔