نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ عوام دشمن ہے جس کا مقصد آئی پی پیز مافیا کو بچانا ہے، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے نیٹ میٹرنگ کے خاتمے کو عوام دشمن فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد آئی پی یپز مافیا کو بچانا اور عوام سے سستی بجلی کا حق چھیننا ہے۔
حافظ نعیم نے سماجی رابطے کی سائٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ عوام دشمن فیصلہ ہے، یہ واضح معاشی دہشت گردی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے عوام کو دھوکا دیا ہے، جس کا مقصد IPPs مافیا کو بچانا اور عوام سے سستی بجلی کا حق چھیننا ہے۔
مزید پڑھیں’سیٹھوں کی بجلی سستی کرنےکےلیے گھریلو صارفین پرحملہ‘ نیٹ میٹرنگ پالیسی پر حکومت کوسخت تنقید کاسامنا
سولر صارفین کے لیے بُری خبر، نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف، ریٹ بھی کم کردیا گیا
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اب سولر صارفین اپنی پیدا کردہ بجلی سستے داموں فروخت کریں گے جبکہ اپنی ضرورت کی یہی بجلی مہنگے ٹیرف پر خریدنی پڑے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاور سیکٹر میں حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں اور اب اس کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ہم حکومت اور نیپرا کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا ایکس پر بیان۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی نیٹ میٹرنگ کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔