بجلی صارفین کیلئے بڑی خبر،: نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
خان شہزاد:نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کا نفاذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت یونٹ کے بدلے یونٹ ملنے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین سے فی یونٹ 26 روپے جبکہ نئے صارفین سے 11 روپے فی یونٹ وصول کیے جائیں گے۔ پالیسی میں اس تبدیلی کے بعد بجلی صارفین، خصوصاً کاروباری طبقے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر شہر کی تاجر برادری نے سخت ردعمل دیا ہے۔
نقلی پسٹل دیکھا کر شہریوں کو لوٹنے والے 2ملزمان گرفتار
تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی اور توانائی کے بڑھتے اخراجات کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں نئی پالیسی ان کیلئے مزید مسائل پیدا کرے گی۔
چھوٹی صنعتوں سے وابستہ تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی پر فوری نظرِ ثانی کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور صنعتی پہیہ چلتا رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ پالیسی پالیسی میں
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔