Juraat:
2026-07-24@02:29:37 GMT

بجلی صارفین پر فکسڈ چارجز لگانے کی تیاریاں،فیصلہ آج ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

بجلی صارفین پر فکسڈ چارجز لگانے کی تیاریاں،فیصلہ آج ہوگا

ملک بھرکے گھریلوبجلی صارفین اضافی بوجھ کیلئے ہوجائیں تیار،نیپراآج سماعت کرے گا
حکومتی درخواست پر پہلی بارماہانہ300یونٹ تک کے گھریلو صارفین پرفکسڈچارجزلگیں گے

ملک بھرکے کروڑوں گھریلوبجلی صارفین اضافی بوجھ کیلئے ہوجائیں تیار، گھریلوصارفین پرفکسڈچارجزکی حکومتی درخواست پر نیپراآج سماعت کرے گا، حکومت نے301 یونٹ سے زائد بجلی استعمال پر بنیادی ٹیرف میں کمی کی درخواست بھی کی ہے۔پروٹیکٹڈاورنان پروٹیکٹڈ گھریلوصارفین پرفکسڈ چارجزلگانے کی درخواست ہے، پہلی بارماہانہ300یونٹ تک کے گھریلو صارفین پرفکسڈچارجزلگیں گے، اس وقت ماہانہ300 یونٹ تک گھریلوصارفین پر فکسڈ چارجز لاگو نہیں ہیں۔ ماہانہ100یونٹ تک کے پروٹیکٹڈ گھریلوصارفین پر 200روپے فکسڈچارجز لگیں گے، ماہانہ200یونٹ تک کے پروٹیکٹڈ صارفین پر 300 روپے فکسڈچارجز لگانے کی درخواست ہے، ماہانہ100یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر275 روپے ماہانہ فکسڈچارجز لگیں گے۔ ماہانہ200یونٹ تک کے نان پروٹیکڈ صارفین پر300روپے فکسڈ چارجز کی درخواست ہے، ماہانہ300یونٹ تک استعمال کے نان پروٹیکٹڈصارفین پر 350روپے فکسڈ چارجزلگیں گے ، ماہانہ 400یونٹ تک نان پروٹکٹڈ صارفین پرفسکڈ چارجز 200 روپے اضافے سے 400روپے ہوجائیں گے۔ ماہانہ500یونٹ کے نان پروٹیکٹد صارفین پر100روپے اضافے سے فکسڈچارجز 500روپے ہوجائیں گے، ماہانہ600یونٹ استعمال پرفکسڈ چارجز75روپے اضافے سے675روپے ہوجائیں گے ، ماہانہ700یونٹ تک پرفکسڈ چارجز 125روپے کمی سے 675روپے ہوجائیں گے۔ ماہانہ700یونٹ سے زائد پرفکسڈ چارجزمیں325روپے کمی سے675روپے ہو جائیں گے،ماہانہ301 سے400یونٹ تک کے گھریلوصارفین کیلئے ایک روپے 53پیسے کمی کی درخواست ہے، ماہانہ500یونٹ تک بجلی استعمال پرفی یونٹ میں ایک روپے 25 پیسے کمی ، ماہانہ 600یونٹ تک کے فی یونٹ پر ایک روپے40 پیسے کمی، ماہانہ 700یونٹ تک گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ میں91پیسے کمی کی درخواست ہے۔ ماہانہ700یونٹ سے زائدکے استعمال پر49پیسے فی یونٹ کمی ، کمرشل صارفین کے لیے ایک روپے 15پیسے فی یونٹ کمی ، صنعتی شعبے کے لیے فی یونٹ بجلی 5 روپے تک سستی کرنے کی درخواست ہے، پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد درخواست نیپرا میں جمع کرارکھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: گھریلوصارفین پر کی درخواست ہے پرفکسڈ چارجز استعمال پر فکسڈ چارجز ہوجائیں گے صارفین پر ایک روپے یونٹ تک فی یونٹ کے نان

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ