بسنت پر 20 ارب روپے کے کاروبار ہونے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور : آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کا بسنت پر 20 ارب روپے کا کاروبار ہونے کا دعویٰ۔
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے دعویٰ کیا ہے کہ بسنت کے موقع پر صوبہ پنجاب میں 20 ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا جس سے صوبائی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا۔
بسنت کے کامیاب انعقاد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف عقیل ملک اوردیگر نمائندوں کا کہنا تھا کہ بسنت کے دوران صرف پتنگ اور ڈور کا کاروبار ہی تین ارب روپے سے زائد رہا ۔
بانس، کاغذ، مزدوری اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد نے بھی بھرپور روزگار حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ بانس فروش ہو یا پیپر فروش، مزدور ہو یا کاریگر، سب نے اس تہوار سے فائدہ اٹھایا۔
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کی بحالی سے نہ صرف ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ ملا بلکہ تین روزہ تہوار خیریت سے مکمل ہوا اور لاہور میں کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق اگلے سال پورے پنجاب میں بسنت منائی جائے گی اور وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ تہوار دوبارہ منعقد ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہر طرف بسنت کا رنگ تھا، ہر چھت پر پتنگ بازی نظر آئی اور ضلعی انتظامیہ نے بھرپور تعاون کیا۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ کچھ افراد نے بغیر چیکنگ کے دوسرے شہروں سے پتنگیں اور گڈیاں لائیں، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں چیک کیا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سال میں کئی بار بسنت منائی جائے کیونکہ یہ تہوار ثقافت، روزگار اور معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن ارب روپے کہا کہ
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔