Express News:
2026-07-24@01:29:22 GMT

اسرائیلی جارحیت اور خاموش دنیا

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے نئے قواعد کی منظوری دے دی ہے۔ نئے قواعد کے تحت اسرائیلی آباد کاروں کے لیے مغربی کنارے میں زمین خریدنا آسان ہو جائے گا جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے (الحاق) کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برطانیہ اور اسپین نے بھی اسرائیلی فیصلوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان کے مطابق یہ اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے تازہ اقدامات محض وقتی یا تکنیکی نوعیت کے فیصلے نہیں بلکہ یہ ایک طویل المدتی سیاسی منصوبے کا حصہ ہیں جس کے اثرات نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب دنیا پہلے ہی یوکرین، غزہ، سوڈان اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات کے باعث تھکن اور بے حسی کا شکار دکھائی دیتی ہے اور شاید اسی عالمی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے ایک بار پھر زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

فلسطین کا مسئلہ کوئی نیا تنازع نہیں۔ اس کی جڑیں بیسویں صدی کے اوائل میں اس وقت پیوست ہوئیں جب برطانوی سامراج نے بالفور اعلامیے کے ذریعے ایک ایسی سیاسی بنیاد رکھ دی جس نے عرب اکثریتی خطے میں ایک یہودی قومی وطن کے قیام کی راہ ہموار کی۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، جسے فلسطینی تاریخ میں نکبہ یعنی عظیم تباہی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1967 کی جنگ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا جب اسرائیل نے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ پر قبضہ کر لیا۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود یہ علاقے آج تک مقبوضہ ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیلی قبضہ غیر قانونی تسلیم کیا جاتا ہے۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری اسی 1967 کے بعد شروع ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ آباد کاریاں محض رہائشی بستیاں نہیں رہیں بلکہ ایک منظم سیاسی اور عسکری ڈھانچے میں تبدیل ہو گئیں۔ ان بستیوں کا مقصد ابتدا ہی سے یہ تھا کہ فلسطینی علاقوں کو اس طرح ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جائے کہ کسی مربوط فلسطینی ریاست کا تصور عملی طور پر ناممکن ہو جائے۔

حالیہ منظور کیے گئے نئے قواعد اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہیں۔ اسرائیلی آباد کاروں کے لیے زمین خریدنے پر عائد سابقہ پابندیاں ختم کرنا، فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی نگرانی بڑھانا، بعض مذہبی مقامات کا انتظام اسرائیلی حکام کے حوالے کرنا اور اسرائیلی اداروں کے اختیارات میں اضافہ کرنا دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ اسرائیل اب کسی بین الاقوامی دباؤ یا سفارتی مصلحت کی پروا کیے بغیر اپنے منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔فلسطینی قیادت کی جانب سے اس فیصلے کو انتہائی خطرناک قرار دینا ایک فطری ردعمل ہے، کیونکہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے لیے زندگی کو مزید مشکل بنانے کا باعث بنیں گے۔ پہلے ہی فلسطینیوں کو آمد و رفت، تجارت، تعلیم اور علاج کے لیے بے شمار رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ جب زمین کی ملکیت غیر محفوظ ہو جائے اور ریاستی سطح پر آباد کاروں کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلسطینی کسان اپنی زمینوں سے محروم ہوں گے، دیہات سکڑتے جائیں گے اور شہروں پر دباؤ بڑھے گا۔ اس صورتحال کا نتیجہ غربت، بے روزگاری اور سماجی انتشار کی صورت میں نکلے گا۔

اردن سمیت علاقائی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی کنارے میں ہونے والی ہر تبدیلی پورے خطے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اردن کا کردار اس حوالے سے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ وہ نہ صرف مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کا نگران سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کی اپنی داخلی سلامتی بھی مغربی کنارے کی صورتحال سے جڑی ہوئی ہے، اگر وہاں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات اردن کے اندر بھی محسوس کیے جائیں گے، جس سے پورا خطہ مزید غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی اقدامات پر عالمی رد عمل بھی قابلِ غور ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، یورپی ممالک جیسے برطانیہ اور اسپین اور آٹھ مسلم ممالک کی مشترکہ مذمت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ عالمی سطح پر ان اقدامات کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ عالمی سیاست میں مذمت اور عملی اقدام کے درمیان ایک وسیع خلا موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں عشروں سے موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کرانے کے لیے کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آتا۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت قوانین کی تشریح کرتی ہیں اور اکثر اسرائیل کو اس استثنا سے فائدہ پہنچتا ہے۔

امریکی کردار اس پورے منظر نامے میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور متنازع ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق کی مخالفت کا بیان سامنے آیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ استحکام اسرائیل کی سلامتی اور خطے میں امن کے لیے ضروری ہے، لیکن امریکی پالیسیوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اسرائیل کو ہمیشہ غیر معمولی سفارتی، عسکری اور معاشی حمایت حاصل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکا واقعی اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنے کے لیے تیار ہے جو دو ریاستی حل کو ناقابلِ عمل بنا دیں یا یہ بیانات محض وقتی سفارتی توازن کا حصہ ہیں؟یہ بات بھی اہم ہے کہ اسرائیل کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں انتہائی دائیں بازو کی قوتیں مسلسل مضبوط ہو رہی ہیں۔

ان جماعتوں اور وزراء کا بیانیہ کھل کر فلسطینی ریاست کے تصور کی نفی کرتا ہے۔ ایک اسرائیلی وزیر کا یہ اعتراف کہ نئے اقدامات کا مقصد فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنا ہے، دراصل اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے جسے طویل عرصے سے چھپایا جاتا رہا۔ جب ریاستی پالیسی کا مقصد ہی کسی قوم کے حقِ خود ارادیت کو ختم کرنا ہو تو پھر مذاکرات اور امن کی باتیں محض دکھاوا بن کر رہ جاتی ہیں۔دو ریاستی حل، جو کبھی عالمی برادری کا متفقہ فارمولا سمجھا جاتا تھا، آج شدید خطرے میں ہے۔ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی آباد کاریاں، فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی تقسیم اور یروشلم کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلیاں اس حل کو عملی طور پر ناممکن بنا رہی ہیں، اگر فلسطینی ریاست کے لیے کوئی مربوط، خود مختار اور قابلِ عمل علاقہ باقی نہیں رہتا تو پھر یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل کا سیاسی حل کیا ہوگا۔

ایک واحد ریاست کا تصور، جس میں فلسطینیوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں، اسرائیلی قیادت کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور ایک مستقل قبضہ عالمی سطح پر دیرپا نہیں ہو سکتا۔ اس خلا کا نتیجہ مزید تصادم، تشدد اور انسانی المیوں کی صورت میں نکل سکتا ہے۔مسلم دنیا کی ذمے داری بھی اس تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آٹھ مسلم ممالک کی جانب سے مشترکہ مذمت ایک مثبت قدم ضرور ہے، لیکن فلسطینی عوام کو محض بیانات سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ سفارتی، معاشی اور سیاسی سطح پر ایک واضح اور متحد حکمت عملی اپنائیں۔ عالمی فورمز پر مؤثر آواز اٹھانے، بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی اور معاشی دباؤ جیسے اقدامات ہی وہ ذرائع ہیں، جن کے ذریعے اسرائیلی پالیسیوں پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔

میڈیا اور عالمی رائے عامہ کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینی مسئلہ اکثر عالمی خبروں میں وقتی طور پر ابھرتا ہے اور پھر کسی نئے بحران کے باعث پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس بے توجہی کا فائدہ اسرائیل کو ملتا ہے، جو خاموشی سے زمینی حقائق کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔ ضروری ہے کہ عالمی میڈیا اور سول سوسائٹی فلسطینی عوام کی آواز کو زندہ رکھیں اور اس تنازع کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی کہانیوں کے ذریعے دنیا کے سامنے لائیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول مضبوط بنانے کے یہ نئے اقدامات امن کے راستے میں ایک اور بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ فیصلے نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اخلاقی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ طاقت کے بل پر مسلط کی گئی پالیسیاں وقتی طور پر تو کامیاب دکھائی دے سکتی ہیں، لیکن طویل المدت میں وہ مزاحمت، نفرت اور عدم استحکام کو جنم دیتی ہیں، اگر عالمی برادری واقعی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن چاہتی ہے تو اسے اسرائیل کو جوابدہ بنانے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگر فلسطینی عوام کی محرومیوں میں اضافہ ہوگا اور یہ تنازع آنے والی نسلوں کے لیے ایک اور دائمی زخم بن کر رہ جائے گا، جس کی قیمت صرف فلسطینی ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ادا کرنا پڑے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مغربی کنارے میں اسرائیلی فلسطینی ریاست فلسطینی عوام بین الاقوامی اسرائیلی ا اسرائیل کو کی جانب سے ہیں بلکہ جاتا ہے ہے اور کے لیے اور اس

پڑھیں:

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔

فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔

رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔

ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم