Express News:
2026-07-24@01:33:31 GMT

کائنات کیا ہے؟ (دوسرا اور آخری حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

ہم اس وقت نظریہ ارتقا پر بات نہیں کررہے ہیں جو اپنی جگہ الگ موضوع ہے بلکہ یہ بتا رہے ہیں کہ اس کائنات کی عمر کے مقابل اس کی ذہانت کی عمر کتنی ہے۔

حیوان سے انسان اور پھر انسان کے مراحل میں اس کی ذہانت کی عمر کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ابھی چند سوسال پہلے تک یہ زمین کو کائنات کا مرکز سمجھتا رہا۔ موجودہ انسانی نسل جسے اصطلاح میں باشعور انسان کہا جاتا ہے اس کی عمر بھی کچھ زیادہ نہیں پھر تاریخ اور لکھت پڑھت یا غور وفکر کی عمر تو تین چار ہزار سال سے زیادہ نہیں ہے تو پھر یہ اربوں سال پرانی کائنات کے بارے میں کیا جان پائے گا اور کتنا جان پائے گا اور پھر اس بے حد وبے کراں قدیم ترین کائنات کے خالق کے بارے میں کیا جان پائے گا۔اس سلسلے میں سفر کے دو راستے انسان نے اختیار کررکھے ہیں ایک عقل کا راستہ اور دوسرا عقیدے کا راستہ۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ عقل کے راستے پر بات تب مانی جاتی ہے جب وہ تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہو جائے اور جو بات تجربے سے ثابت نہیں ہوجاتی اسے نہیں مانا جاتا ہے جب کہ عقیدے کے راستے میں پہلے مانا جاتا ہے پھر مشاہدہ کیا جاتا ہے۔

کچھ خاص خاص قسم کے لوگوں یا ہستیوں کو مسیحا مان کر ان کی بتائی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا جاتا ہے جیسے ہم نے امریکا برطانیہ وغیرہ کو خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا بلکہ ساری دنیا کے بہت سے مقامات،اشیا اور لوگوں کو نہیں دیکھا ہوتا ہے لیکن کچھ ایسے لوگوں کے کہنے اور بتانے پر ہم ان کو مانتے ہیں کیونکہ بتانے والوں کے بارے میں ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ سچے ہیں۔یعنی بات ہمارے یقین کی ہے۔یہاں یہ بھی بتادیں کہ طبعیات کی عام اصطلاح میں سائنس کے بارے میں بھی یہ بات غلط ہے کہ وہ خدا کے منکر ہوتے ہیں، وہ اس حد تک منکر ہوتے ہیں کہ کوئی ہستی ابھی تک ان کے مشاہدے اور تجربے سے ثابت نہیں ہے لیکن منکر بھی نہیں کہ ایسی کسی ہستی کا’’نہ ہونا‘‘ بھی ثابت نہیں ہوا ہے کیونکہ انسان کے علم و ادراک سے یہ کائنات بہت بڑی ہے اور جب انسان اس کائنات کی حقیقت تک نہیں پہنچ پایا ہے کہ ایسی کوئی ہستی موجود نہیں ہے، پہلے میں نے اس کائنات بلکہ کاسموس کے بارے میں بتایا ہے کہ کتنی بڑی اور لامحدود ہے اور انسان اور اس کا ذہن اور علم اس کے مقابل کتنا محدود اور کتنا کم ہے کسی کا ایک خوبصورت شعر ہے

ہر تخئیل سے ماورا ہے تُو

ہر تخئیل میں ہے مگر موجود

ترا ادراک غیر ممکن ہے

عقل محدود تُو ہے لامحدود

تو محدود سے لامحدود کا تصور ممکن ہی نہیں وہی قطرے کے مقابل سمندر، ذرے کے مقابل صحرا اور پتے کے مقابل جنگل کی مثال سامنے آجاتی ہے ۔ غالب نے کہا ہے

ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے

پر تجھ سی تو کوئی شے نہیں ہے

سوئیٹزرلینڈ کی ایک بہت بڑی مشین کے بارے میں سنا ہوگا، یہ مشین دنیا کے سارے ممالک کے اشتراک اور تعاون سے زمین کے اندر دو سو اکہتر کلومیٹر نیچے تک بنائی گئی ہے۔ پاکستان اسٹیل مل میں بھی اس کے کچھ حصے تیار کیے گئے اور کچھ پاکستانی بھی اس کے عملے میں شامل ہیں، اس مشین کے ذریعے یہ پتہ لگانا ہے کہ بگ بینگ کے اولین لمحے میں کیا ہوا تھا، کیا وجود میں آیا تھا۔کچھ عرصے پہلے اس کا ایک تجربہ تو ناکام ہوا تھا لیکن دوسرے تجربے کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ’’ اولین ذرہ‘‘دریافت کرلیا گیا ہے لیکن اس کے بعد پھر خاموشی ہے۔ مطلب یہ کہ

ہنوزدلی دور است

مشین اور اس کھوج سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ اہل طبعیات اس ہستی کے اگر قائل نہیں ہیں تو منکر بھی نہیں، تلاش اور کھوج اس چیز کی، کی جاتی ہے جس کی موجودگی کا یقین ہو۔اگر کسی چیز کے بارے میں یقین ہوجائے کہ نہیں ہے تو پھر اس کی تلاش اور ڈھونڈ کیوں؟۔مطلب یہ کہ طبعیات والے اس ہستی کے ان معنوں میں قائل بھی نہیں ہیں جن معنوں میں منکر بھی نہیں جیسا کہ عام طور پر آدھے ادھورے علم والے سمجھتے یا کہتے ہیں اس کیفیت اور صورت حال کو اصطلاح میں ’’لاادری‘‘ کہا جاتا ہے یعنی معلوم نہیں یا میں نہیں جانتا۔اب’’میں‘‘ نہیں جانتا کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیز نہیں ہے بلکہ کہنے والا اپنے بارے میں بتاتا ہے کہ ’’میں‘‘ نہیں جانتا اس کے معنی یہ نہیں کہ ’’وہ‘‘ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اگر گہرائی اور گیرائی سے سوچا جائے تو انسانی ذہن اس سے بھی زیادہ کم،بے بضاعت نارسا اور محدود ثابت ہوجاتا ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں، مثال کے طور پر اگر یہ سب کچھ کسی ہستی یا قوت نے پیدا کیا ہے اس ہستی کو کس نے پیدا کیا ہے اور اگر وہ خود بخود پیدا ہوئی جیسا کہ ہم کہتے ہیں خود بخود۔ہندی اصطلاح میں اسے ’’سوئم بھو‘‘ کہاجاتا ہے یعنی خود کو خود پیدا کرنے والا۔کچھ مذاہب میں کہا جاتا ہے کہ وہ اول بھی ہے آخر بھی ہے

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

انسانی ذہن تو ہر چیز کا آغاز اور اختتام جاننا چاہتا ہے ایک اور بات یہ کہ اس سے پہلے کچھ نہ تھا اگر کچھ نہ تھا تو کیا تھا۔یا ازل اور ابد کے الفاظ بھی ہم سنتے ہیں لیکن ازل کہاں سے اور ابد کہاں تک۔ہر طرف اور ہر طریقے سے سوچیے کہ’’کچھ نہ تھا‘‘ اور’’کچھ نہیں ہوگا‘‘ کے معنی کیا ہیں۔ہم نے بگ بینگوں کے بارے میں بتایا کہ طبعیات والے بتاتے ہیں کہ ذرہ پھٹا ہے۔

اس میں زمان و مکان یعنی کائنات نکل کر شروع ہوجاتی ہے یہ کائنات پھیلتی ہے پھیل رہی ہے پھر اس کا پھیلنا رُک جائے گا اور سمٹنا شروع ہوجائے گا یعنی انتشار کے بعد ارتکاز ایک مرتبہ پھر یہ کائنات سمٹ کر مرتکز ہوکر اس ذرے میں سما جائے گی اور ارتکاز کی انتہا پر پہنچ کر پھر پھٹ پڑے گا اور دوسری کائنات شروع ہوجائے گی یہاں تک تو انسانی علوم نے بتادیا ہے لیکن یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ ذرہ پھیلنے اور سمٹنے کا سلسلہ کب سے ہے اور کب تک چلے گا۔یہ کب سے شروع ہوا ہے اور کب تک جاری رہے گا یعنی پھر وہ ازل اور ابد۔آغاز و انجام کا سوال جو انسانی ذہن،عقل،علم تخئیل اور ادراک سے باہر اور اس صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ اپنی بے بضاعتی اور کائنات کے مقابل اپنی نارسائی تسلیم کرکے صرف اس جانکاری پر قانع ہو جائے جو ہمیں حاصل ہوسکتی ہے یا ہوچکی ہے یعنی وہ جسے خدا سپریم پاور کہیے کچھ بھی کہیے یا سمجھیے۔

ہماری انسانی رسائی سمجھ اور تخیل و ادراک سے باہر ہے بڑی ہے لامحدود ہے لا ادراک ہے۔اس سلسلے میں ایک مثال تو مولانا روم نے۔موسیٰ اور گڈریے کی دی ہے کہ گڈریے کے خیال میں وہ ایسا ہی ہے جو وہ سمجھتا ہے اور موسیٰ کے لیے وہ وہ ہے جو وہ سمجھتا ہے، دوسری مثال چاراندھوں کی ہے جنھوں نے ہاتھی کو ٹٹولا تھا اور ہر ایک نے ہاتھی کو دوسرے سے مختلف بتایا تھا۔وہ چاروں سچے تھے کہ جو وہ بتارہے تھے وہ بھی ہاتھی تھا لیکن پورا ہاتھی نہیں تھا کیونکہ وہ اندھے پورے ہاتھی کو دیکھ ہی نہیں سکتے تھے۔ہم انسان تو جب اس کا تصور کریں گے تو ایک انسانی شباہت لیے ہوگا زیادہ سے زیادہ اسے بہت بڑا بنادیں گے اعضا میں کمی پیشی کردیں گے لیکن بنیادی طور پر اس میں انسانی شباہت ہی بھریں گے چنانچہ اکثر دانا لوگ کہتے ہیں کہ اگر سارے جانوروں کو زبان مل جائے اور خدا کے بارے میں پوچھا جائے تو سب اسے اپنی طرح بتائیں گے۔حافظ شیرازی کا ایک شعر ہے

معشوق چوں نقاب زرخ پر نمی کنند

ہرکس حکایتے بہ تصور چراکنند

ترجمہ۔معشوق جب اپنے چہرے سے نقاب نہیں ہٹاتا تو لوگ اپنے اپنے تصور سے کہانیاں کیوں بناتے ہیں۔ایسی حالت میں ہمیں وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو وہ خود ہمیں بتاتا ہے عقیدے اور وحی کا راستہ۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انسان کے لیے اس کا تصور و ادراک ممکن نہیں اس کا جتنا برتن ہے اتنا ہی پانی اس میں ڈالنا چاہیے زیادہ ڈالیں گے تو وہ چھلک کر باہر نکل جائے گا۔اب قرآن کو لے لیجئے اس میں انسان کو اتنا ہی علم دیا گیا ہے جو اس کے لیے ضروری ہے اور اس کے برتن کے مناسب ہے۔اپنے دائرے سے نکل کر واہی تباہی پھیرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے،جتنی اس کی جھولی ہے اتنے پھول توڑنا چاہیے ،سارا باغ جھولی میں ڈالنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے بارے میں اصطلاح میں کے مقابل بھی نہیں نہیں ہے ہے لیکن جاتا ہے نہ تھا کچھ نہ گا اور ہیں کہ اور اس ہے اور کی عمر

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف