بھارت و اسرائیل دہشتگردی کرا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں کرتے ہیں، شاداب نقشبندی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف قوم متحد ہے، دہشتگردوں کو ملک میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل ملک میں دہشتگردی کرا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ بھارت کے دہشتگردانہ چہرے کو پورے دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے، ملک میں ہونیوالی دہشتگردی کرنیوالے بھارتی آلہ کاروں کو پوری طاقت سے کچلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام قومی اداروں کے ساتھ ہیں اور ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کیلئے پُرعزم ہیں، پاک فوج نے ملک کی سلامتی اور دہشتگردی کے خلاف لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم پاک افواج کی قربانیوں پر فخر اور شہداء کو سلام پیش کرتی ہے، دہشتگردی کے خلاف قوم متحد ہے، دہشتگردوں کو ملک میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔