مسلم سوسائٹی میں کھلے مین ہولز حادثے کا سبب بن سکتے ہیں،شاہد سومرو
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) معروف سماجی شخصیت شاہد سومرو نے کہاہے کہ مسلم سوسائٹی۔خالد سوسائٹی قاسم آباد فیز ون میں سیوریج کے کھلے مین ھول کی شکایت واسا واٹر کمیشن دفتر قاسم آباد میں نوٹ کرانے کے باوجود واسا واٹر کمیشن قاسم آباد کیجانب سے ان کھلے مین ھولز پر کور نہیں لگائے گئے ہیں جن سے کسی بھی وقت حادثے کا خدشہ ہے اور قاسم آباد کے کئے مین ہول زبون حالی کا شکار بنے ہوئے ہیں کئی مین ھول روڈ میں اندر چلے گئے جن سے گاڑیاں گزرنے سے بھی حادثات پیش آسکتے ہیں۔ قاسم آباد کی فینڈ سوسائٹی کے گیٹ کے سامنے سڑک پر سیوریج لائن بند رہنے سے ٹرئفک کی روانگی متاثر اور بدبو پھیل رہی ہے۔ایم۔ڈی واٹر کمیشن حیدرآباد قاسم آباد فیز ونکی سوسائٹیز کے مین ھولز سمیت دیگر علائقے کے مین ھول زمین بوس کی ریپر کا کام کرائیں۔اور بند گٹر لائینوں کی صفائی کا کام فوری طور کرائیں۔شاہد سومرو نے کہا کہ واساواٹر کمیشن حیدرآباد کے کچے ملازمین کی بائیو میٹرک حاضری سے اصل ملازمین کام کرنے والوں کا پتا چل جائے گا اور قاسم آباد سمیت حیدرآباد میں صفائی کا عمل بھی بہترین ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قاسم آباد میں کروٹوں روپے کے بنگلے بنے ہوئے ہیں لیکن سیوریج نظام بھتر نہ ہونے سے انکی خوبصورتی متاثر اور گندگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ ہم ضلعی مئیر حیدرآباد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قاسم آباد سمیت حیدرآباد کیلئے کمپیوٹر آن لائن سیوریج شکایتی سیل ترتیب دیں تاکہ سیوریج سے جڑے مسائل حل ہو پائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔