سینٹرل جیل کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی غنڈہ گردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (سٹاف رپورٹر)کراچی کی سینٹرل جیل کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے نشے کی حالت میں شہریوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے، وحشیانہ تشدد کرنے اور رقم لوٹنے کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزم افسر کو معطل کر کے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔نیو ٹاؤن تھانے میں متاثرہ شہری محمد فراز جیلانی کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں حبسِ بے جا میں رکھنے، اغوا، جھگڑا کرنے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور رقم چھیننے سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔مدعی مقدمہ فراز جیلانی کے مطابق وہ سینٹرل جیل کالونی میں اپنے رشتہ دار سے ملنے گئے تھے جہاں ان کے دیگر دوست (سید حسن، بصام قادر، محسن حسین، عباد راشد) بھی موجود تھے۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ احسان مہر نے نشے کی حالت میں وہاں پہنچ کر نوجوانوں کو مغلظات بکیں اور جیل کی موبائل منگوا کر انہیں دھکے دے کر زبردستی اغوا کر لیا۔ ملزم احسان مہر اور اس کے ساتھیوں نے نوجوانوں کو جیل کے اندر ایک کمرے میں بند کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ مدعی کے مطابق ان سے موبائل فون اور 40 ہزار روپے نقد چھین لیے گئے۔ متاثرین کو منشیات اور اسلحے کے جھوٹے کیسز میں پھنسانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔متاثرہ شہری نے انکشاف کیا کہ ملزم افسر نے دباؤ ڈال کر ان کی زبردستی ویڈیوز بنوائیں جن میں ان سے یہ اعتراف کروایا گیا کہ وہ نشہ کرتے ہیں۔ بعد ازاں ایک کاغذ پر زبردستی معافی نامہ لکھوا کر انگوٹھے لگوائے گئے، جس کے بعد موبائل واپس کر کے انہیں چھوڑ دیا گیا تاہم چھینی گئی رقم واپس نہیں کی گئی۔ جیل حکام کے مطابق ملزم کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ڈی آئی جی اسلم ملک کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے جو مکمل تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کریں گے۔شہریوں نے پولیس اور جیل حکام کے اس رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وردی کی آڑ میں جرائم کرنے والے ایسے افسران کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔