data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-01-20
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کر دیے جب کہ اس فیصلے پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئے ریگولیشنز 2026ء کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، نئے ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر ہی بیچیں گے مگر نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو بیچی گئی بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 17 روپے 19 پیسے کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔اب نئے صارف کو اس کی فی یونٹ قیمت 3 گنا سے بھی کم یعنی 8 روپے 13 پیسے ملے گی، نئے اور پرانے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا بھی نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ، صارف کا یونٹ اب سرکاری یونٹ کے برابر نہیں ہو گا، اب نیشنل گرڈ سے لی گئی ساری بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومتی ٹیرف اور سلیبس کے حساب سے ہو گی۔نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت 7 سال سے کم کر کے5 سال کر دی گئی ہے۔پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق ملک میں اس وقت 7 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت کے نیٹ میٹرنگ سولر سسٹم لگ چکے ہیں جب کہ 13 ہزار سے 14 ہزار میگاواٹ صلاحیت کے ایسے صارفین کا تخمینہ ہے جو آف گرڈ بجلی بناتے ہیں۔ماہرین کے مطابق نئے ریگولیشنز کے بعد آف گرڈ سولر لگانے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی کل تعداد 4 لاکھ 66 ہزار ہے۔ پاور ڈویڑن کی پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کا 82 فیصد بڑے شہروں میں ہے۔لاہور میں 24 فیصد، ملتان میں 11 فیصد، راولپنڈی میں 9 فیصد کراچی 7 فیصد اور فیصل آباد میں 6 فیصد سولر صارفین ہیں۔اس معاملے پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق گورنر سندھ اور ن لیگ کے رہنما محمد زبیر نے ایکس پر لکھا کہ یہ حکومت ثابت کر رہی ہے کہ اس کے پاس ہمارے معاشی چیلنجز خاص طور پر پاور سیکٹر کا کوئی حل نہیں ہے، اضافی ادائیگی کیوں کرنی چاہیے کیونکہ یہ حکومت نااہل ہے ۔سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ سیٹھوں کی بجلی سستی کرنے کے لیے گھریلو صارفین پر دوطرفہ حملہ کیا گیا ہے، ایک طرف بجلی کے ریٹس بڑھا دیے گئے دوسری طرف سولر نیٹ میٹرنگ عملی طور پر ختم کر دی گئی۔انہوں نے لکھا کہ ایوب خان کے 22 خاندان اب بال بچوں سمیت 200 خاندان بن گئے ہیں اور زرداری اور شریف خاندان ان 200کے برابر ہے۔پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے نئی نیپرا پالیسی کو پاکستان کے ماحولیاتی وعدوں کے خلاف قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ نئے نیپرا قواعد صاف اور سستی بجلی دینے والے شہریوں کو سزا دینے کے مترادف ہیں، نیپرا پر اعتماد کرکے سولرائزیشن میں سرمایہ لگانے والوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ سولر والوں سے بہت بڑا فراڈ شروع ہو گیا ہے۔سرگرم سماجی کارکن اور محقق عمار رشید نے اس فیصلے کو “تباہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا “واضح طور پر پاکستان کے صارفین کی زیر قیادت صاف توانائی کی منتقلی کو سست کرنا ہے” اور حکام پر الزام عاید کیا کہ وہ شمسی توانائی سے استعمال کرنے والوں کو “IPPs کے مفادات کے تحفظ، زیادہ ریونیو کی وصولی، DISCO کی نااہلیوں کو چھپانے اور گرڈ کی اصلاحات میں تاخیر کرنے کے لیے جرمانہ کر رہے ہیں۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صارفین اضافی شمسی توانائی کے لیے بہت کم معاوضہ وصول کرتے ہوئے مکمل قیمت ادا کریں گے، صارفین تقریباً 40 روپے فی یونٹ بجلی خریدیں گے جب کہ زاید رقم تقریباً 11 روپے میں واپس خریدی جائے گی، ٹیکس کے علاج سے اس فرق کو مزید وسیع کیا جائے گا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ نے کہا کہ کے مطابق فی یونٹ کے لیے

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان