سیٹھوں کی بجلی سستی کرنے کیلیے گھریلو صارفین پرحملہ‘ نیٹ میٹرنگ پالیسی پر حکومت کوسخت تنقید کاسامنا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-01-20
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کر دیے جب کہ اس فیصلے پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئے ریگولیشنز 2026ء کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، نئے ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر ہی بیچیں گے مگر نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو بیچی گئی بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 17 روپے 19 پیسے کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔اب نئے صارف کو اس کی فی یونٹ قیمت 3 گنا سے بھی کم یعنی 8 روپے 13 پیسے ملے گی، نئے اور پرانے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا بھی نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ، صارف کا یونٹ اب سرکاری یونٹ کے برابر نہیں ہو گا، اب نیشنل گرڈ سے لی گئی ساری بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومتی ٹیرف اور سلیبس کے حساب سے ہو گی۔نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت 7 سال سے کم کر کے5 سال کر دی گئی ہے۔پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق ملک میں اس وقت 7 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت کے نیٹ میٹرنگ سولر سسٹم لگ چکے ہیں جب کہ 13 ہزار سے 14 ہزار میگاواٹ صلاحیت کے ایسے صارفین کا تخمینہ ہے جو آف گرڈ بجلی بناتے ہیں۔ماہرین کے مطابق نئے ریگولیشنز کے بعد آف گرڈ سولر لگانے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی کل تعداد 4 لاکھ 66 ہزار ہے۔ پاور ڈویڑن کی پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کا 82 فیصد بڑے شہروں میں ہے۔لاہور میں 24 فیصد، ملتان میں 11 فیصد، راولپنڈی میں 9 فیصد کراچی 7 فیصد اور فیصل آباد میں 6 فیصد سولر صارفین ہیں۔اس معاملے پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق گورنر سندھ اور ن لیگ کے رہنما محمد زبیر نے ایکس پر لکھا کہ یہ حکومت ثابت کر رہی ہے کہ اس کے پاس ہمارے معاشی چیلنجز خاص طور پر پاور سیکٹر کا کوئی حل نہیں ہے، اضافی ادائیگی کیوں کرنی چاہیے کیونکہ یہ حکومت نااہل ہے ۔سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ سیٹھوں کی بجلی سستی کرنے کے لیے گھریلو صارفین پر دوطرفہ حملہ کیا گیا ہے، ایک طرف بجلی کے ریٹس بڑھا دیے گئے دوسری طرف سولر نیٹ میٹرنگ عملی طور پر ختم کر دی گئی۔انہوں نے لکھا کہ ایوب خان کے 22 خاندان اب بال بچوں سمیت 200 خاندان بن گئے ہیں اور زرداری اور شریف خاندان ان 200کے برابر ہے۔پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے نئی نیپرا پالیسی کو پاکستان کے ماحولیاتی وعدوں کے خلاف قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ نئے نیپرا قواعد صاف اور سستی بجلی دینے والے شہریوں کو سزا دینے کے مترادف ہیں، نیپرا پر اعتماد کرکے سولرائزیشن میں سرمایہ لگانے والوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ سولر والوں سے بہت بڑا فراڈ شروع ہو گیا ہے۔سرگرم سماجی کارکن اور محقق عمار رشید نے اس فیصلے کو “تباہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا “واضح طور پر پاکستان کے صارفین کی زیر قیادت صاف توانائی کی منتقلی کو سست کرنا ہے” اور حکام پر الزام عاید کیا کہ وہ شمسی توانائی سے استعمال کرنے والوں کو “IPPs کے مفادات کے تحفظ، زیادہ ریونیو کی وصولی، DISCO کی نااہلیوں کو چھپانے اور گرڈ کی اصلاحات میں تاخیر کرنے کے لیے جرمانہ کر رہے ہیں۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صارفین اضافی شمسی توانائی کے لیے بہت کم معاوضہ وصول کرتے ہوئے مکمل قیمت ادا کریں گے، صارفین تقریباً 40 روپے فی یونٹ بجلی خریدیں گے جب کہ زاید رقم تقریباً 11 روپے میں واپس خریدی جائے گی، ٹیکس کے علاج سے اس فرق کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ نے کہا کہ کے مطابق فی یونٹ کے لیے
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔