جماعت اسلامی کی میہڑ میں3 پولیس اہلکاروں کے قتل کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-5
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے میہڑ میں 3 پولیس اہلکاروں کے قتل کی شدید مذمت اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے۔ سندھ میں لاقانونیت، ڈاکو راج اور پولیس اہلکاروں کے قتل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صوبے میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ حالیہ واقعہ امن و امان کے دعویدار صوبائی وزیر داخلہ اور سندھ حکومت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ کچھ عرصہ قبل شکارپور میں ایس ایچ او خمیسو بروہی کو قتل کیا گیا، جس کے قاتل آج بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہیں جبکہ حالیہ واقعے میں 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت لاقانونیت کی انتہا اور سندھ پر مسلط پیپلز پارٹی کے 17 سالہ سیاہ دور کا نتیجہ ہے۔ جب سندھ میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی ڈاکو راج اور قاتلوں سے محفوظ نہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکو آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ شریف اور امن پسند لوگ پولیس گردی کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ سندھ سمیت پورے ملک میں امن و امان کی بحالی، عوام کی جان، مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا، جس کے باعث عام لوگ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے امن و امان سے متعلق تمام دعوے ہوا ہو چکے ہیں، اب عام لوگوں کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی جرائم پیشہ ٹولوں سے محفوظ نہیں رہے۔کاشف سعید شیخ نے میہڑ واقعے میں شہید پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری، مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے اور سندھ میں ڈاکو راج، لاقانونیت اور مجرمانہ ٹولوں کو سہولت فراہم کرنے والے بااثر افراد کے خلاف فوجی آپریشن کا مطالبہ اور شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار بھی کیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں کے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔