اپنے ایک بیان میں جماعتِ اسلامی سندھ کے امیر نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے امن و امان سے متعلق تمام دعوے ہوا ہو چکے ہیں، اب عام لوگوں کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی جرائم پیشہ ٹولوں سے محفوظ نہیں رہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعتِ اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے اندرون سندھ کے علاقے میہڑ میں تین پولیس اہلکاروں کے قتل کی شدید مذمت اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے اس واقعے میں ملوث مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے۔ اپنے مذمتی بیان میں کاشف سعید شیخ نے کہا کہ سندھ میں لاقانونیت، ڈاکو راج اور پولیس اہلکاروں کے قتل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صوبے میں جنگل کا قانون نافذ ہے، حالیہ واقعہ امن و امان کے دعویدار صوبائی وزیرِ داخلہ اور سندھ حکومت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل شکارپور میں ایس ایچ او خمیسو بروہی کو قتل کیا گیا، جس کے قاتل آج بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہیں، جبکہ حالیہ واقعے میں تین پولیس اہلکاروں کی شہادت لاقانونیت کی انتہاء اور سندھ پر مسلط پیپلز پارٹی کے سترہ سالہ سیاہ دور کا نتیجہ ہے، جب سندھ میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی ڈاکو راج اور قاتلوں سے محفوظ نہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔

کاشف سعید شیخ نے کہا کہ سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکو آزاد گھوم رہے ہیں، جبکہ شریف اور امن پسند لوگ پولیس گردی کا شکار بنے ہوئے ہیں، سندھ سمیت پورے ملک میں امن و امان کی بحالی، عوام کی جان، مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا، جس کے باعث عام لوگ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے امن و امان سے متعلق تمام دعوے ہوا ہو چکے ہیں، اب عام لوگوں کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی جرائم پیشہ ٹولوں سے محفوظ نہیں رہے۔ کاشف سعید شیخ نے میہڑ واقعے میں شہید پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری، مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے اور سندھ میں ڈاکو راج، لاقانونیت اور مجرمانہ ٹولوں کو سہولت فراہم کرنے والے بااثر افراد کے خلاف فوجی آپریشن کا مطالبہ اور شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں کے کاشف سعید شیخ نے نے کہا کہ

پڑھیں:

راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار

— فائل فوٹو

راولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔

راولپنڈی: دورانِ ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین، بیوی ہی قاتل نکلی

راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔

پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔

جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار