data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-08-21
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومتی اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی گئی تو اس کو نہیں مانوں گا، سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہا اور مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں آپ کیوں سیاست کر رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ جیل بہت معمولی چیز ہے اور پھانسی بہت معمولی چیز ہے، اس سے آگے کوئی چیز ہو تو قبول کریں گے، ہمارا مؤقف بہت واضح ہے اور ایسی قانون کی پیروی مت کرو کیونکہ خالق کی نافرمانی پر مبنی قوانین کی پاسداری جائز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام میں مسلکی امتیاز کے بغیر پورے برصغیر سے علما کرام بلائے گئے تھے، ہماری جماعت نے خلافت اور آزادی کی تحریک چلائی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کا درس یہی رہ گیا کہ دھاندلی کے ساتھ کسی طرح کرسی تک پہنچ جاؤں، دھاندلی سے کرسی تک پہنچنے والوں کو زبردست سیاستدان کہا جاتا ہے، سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہا جبکہ سیاست انبیا کی وراثت ہے اور انبیا کا وظیفہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں آپ کیوں سیاست کر رہے ہیں، قومی و ملی زندگی کی تدبیر کا نام سیاست ہے، سیاست ایک کھلا میدان ہے اور حضور پاکؐ نے بھی سیاست کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ علما انبیا کے وارث ہیں، منبر رسول پر علمائے کرام کے سوا کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا، مسند سیاست پر بھی علما کے سوا کوئی مستحق نہیں ہوسکتا۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے الیکشن میں ٹکٹ مل گیا تو ٹھیک ورنہ جماعت چھوڑ دی جاتی ہے، ہمارے ماحول میں نہ کوئی مشرک ہے نہ کوئی یہودی ہے لیکن انکی بری عادتیں ہمارے اندر آجاتی ہیں، قرآن کریم بھی مخلص کارکن کا ذکر کرتا ہے، قرآن بھی کہتا ہے کہ کچھ کو مفاد مل جائے تو راضی نہ ملے تو ناراض ہو جاتے ہیں، مفاد پرست طبقے کو سمجھنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاست دان بھی یہی کہتے ہیں ہم بھی نماز پڑھتے ہیں، سیاستدان ملک کو جو نظام اور قانون دے رہے ہیں وہ کیا ہے، ہمیں کسی کے نماز روزے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قانون قرآن و سنت کے خلاف ہو اس کو اکثریت سے پاس کیا جاتا ہے، پارلیمنٹ میں کہا گیا کہ فضل الرحمن نے قانون کو چیلنج کیا ہے، میں کون ہوتا ہوں قانون کو نہ ماننے والا، جس قانون میں اللہ کی نافرمانی ہوگی اس کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی گئی تو اس کو نہیں مانوں گا، آئین کا تقاضا ہے کہ غلط قانون سازی نہ کی جائے، ہم قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ہر سزا خندہ پیشانی سے قبول کریں گے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام کہا جاتا ہے نے کہا کہ رہے ہیں ہے اور

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف