مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں سیاست کیوں کر رہے ہیں‘ فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومتی اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی گئی تو اس کو نہیں مانوں گا، سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہا اور مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں آپ کیوں سیاست کر رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ جیل بہت معمولی چیز ہے اور پھانسی بہت معمولی چیز ہے، اس سے آگے کوئی چیز ہو تو قبول کریں گے، ہمارا مؤقف بہت واضح ہے اور ایسی قانون کی پیروی مت کرو کیونکہ خالق کی نافرمانی پر مبنی قوانین کی پاسداری جائز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام میں مسلکی امتیاز کے بغیر پورے برصغیر سے علما کرام بلائے گئے تھے، ہماری جماعت نے خلافت اور آزادی کی تحریک چلائی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کا درس یہی رہ گیا کہ دھاندلی کے ساتھ کسی طرح کرسی تک پہنچ جاؤں، دھاندلی سے کرسی تک پہنچنے والوں کو زبردست سیاستدان کہا جاتا ہے، سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہا جبکہ سیاست انبیا کی وراثت ہے اور انبیا کا وظیفہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں آپ کیوں سیاست کر رہے ہیں، قومی و ملی زندگی کی تدبیر کا نام سیاست ہے، سیاست ایک کھلا میدان ہے اور حضور پاکؐ نے بھی سیاست کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ علما انبیا کے وارث ہیں، منبر رسول پر علمائے کرام کے سوا کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا، مسند سیاست پر بھی علما کے سوا کوئی مستحق نہیں ہوسکتا۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے الیکشن میں ٹکٹ مل گیا تو ٹھیک ورنہ جماعت چھوڑ دی جاتی ہے، ہمارے ماحول میں نہ کوئی مشرک ہے نہ کوئی یہودی ہے لیکن انکی بری عادتیں ہمارے اندر آجاتی ہیں، قرآن کریم بھی مخلص کارکن کا ذکر کرتا ہے، قرآن بھی کہتا ہے کہ کچھ کو مفاد مل جائے تو راضی نہ ملے تو ناراض ہو جاتے ہیں، مفاد پرست طبقے کو سمجھنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاست دان بھی یہی کہتے ہیں ہم بھی نماز پڑھتے ہیں، سیاستدان ملک کو جو نظام اور قانون دے رہے ہیں وہ کیا ہے، ہمیں کسی کے نماز روزے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قانون قرآن و سنت کے خلاف ہو اس کو اکثریت سے پاس کیا جاتا ہے، پارلیمنٹ میں کہا گیا کہ فضل الرحمن نے قانون کو چیلنج کیا ہے، میں کون ہوتا ہوں قانون کو نہ ماننے والا، جس قانون میں اللہ کی نافرمانی ہوگی اس کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی گئی تو اس کو نہیں مانوں گا، آئین کا تقاضا ہے کہ غلط قانون سازی نہ کی جائے، ہم قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے ہر سزا خندہ پیشانی سے قبول کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام کہا جاتا ہے نے کہا کہ رہے ہیں ہے اور
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔