جھولتی تاریں، ٹیڑھے و کمزور کھمبے سنگین خطرہ بنتے جارہے ہیں،عدنان دیسوالی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف میاں سرفراز ٹاؤن حیدرآباد کے صدر عدنان خان دیسوالی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حیسکو انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال موسم سرما میں حیسکو کی جانب سے خطیر رقم مینٹیننس اور مرمتی کاموں کے نام پر خرچ کی جاتے ہے، مگر عملی طور پر شہر بھر میں بجلی کا انفراسٹرکچر خستہ حالی کا شکار نظر آتا ہے بغیر سیفٹی کے جھولتی ہوئی برقی تاریں، جگہ جگہ ٹیڑھے اور کمزور کھمبے،اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔ عدنان خان دیسوالی نے کہا کہ حیسکو کی جانب سے بروقت اور معیاری مینٹیننس نہ ہونے کے باعث موسم گرما میں لوڈشیڈنگ، شارٹ سرکٹ، آگ لگنے،ٹرانسفارمر جلنے، جانی و مالی نقصان جیسے واقعات میں اضافے کا خدشہ شدید ہوتا جا رہا ہے گزشتہ روز کینٹ بازار میں بجلی کی تاروں میں آگ لگنے کا واقعہ اس امر کی کھلی مثال ہے کہ صورتحال کس قدر خطرناک اور تشویشناک ہو چکی ہے، جہاں کسی بڑے سانحے سے صرف قسمت سے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جعلی اور نام نہاد نمائندگان ہر سال موسم گرما میں محض فوٹو سیشن اور وقتی بیانات تک محدود رہتے ہیں، مگر عوام کی جان و مال کے تحفظ، مستقل حل اور عملی اقدامات کے لیے ان کی کارکردگی صفر نظر آتی ہے یہ نمائندگان عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے صرف دکھاوے کی سیاست کرتے ہیں، جس کا خمیازہ غریب اور متوسط طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔