تہران اور ریاض کے درمیان ہمکاری اور تعاون اسرائیلی اقدامات کا بہترین جواب ہے، سعودی عرب
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
العنزی نے علاقائی پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران اور ریاض کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی خطے میں تباہ کن اور کشیدگی پیدا کرنے والے فریقوں کو واضح پیغام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ بن سعود العنزی نے کہا ہے کہ تہران اور ریاض کے درمیان تعاون صیہونی حکومت کے اقدامات کا بہترین جواب ہے۔ تسنیم نیوز کے انٹرنیشنل گروپ کے مطابق تہران میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ بن سعود العنزی نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس نقطہ نظر کو خطے میں صیہونی حکومت کے اقدامات اور طرز عمل کا بہترین جواب قرار دیا۔
العنزی نے علاقائی پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران اور ریاض کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی خطے میں تباہ کن اور کشیدگی پیدا کرنے والے فریقوں کو واضح پیغام ہے۔ علاقائی بحرانوں کے حوالے سے سعودی عرب کے نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ریاض اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ علاقائی مسائل کا حل جنگ اور تنازعات نہیں۔تہران میں سعودی سفیر نے کہا کہ خطے میں پائیدار سلامتی اور طویل مدتی استحکام کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تہران اور ریاض کے درمیان سعودی عرب کے العنزی نے دیتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔