راجپال یادو کی گرفتاری پر فلمی و سیاسی شخصیات متحرک، کیا ان کی رہائی ممکن ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
بالی ووڈ کے معروف اداکار راجپال یادو نے چیک باؤنس کیس میں دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے مہلت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد تہار جیل میں خود کو سرنڈر کر دیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد فلمی صنعت اور سیاسی حلقوں سے اظہارِ ہمدردی اور مالی تعاون کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔
سیاستدان تیج پرتاپ یادو نے راجپال یادو کے خاندان کے لیے 11 لاکھ روپے مالی معاونت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ اور ان کی جماعت جنتا شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) راجپال یادو کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کے تحت یہ امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’میرے پاس اب پیسے بھی نہیں‘، جیل جانے سے پہلے اداکار راجپال یادو جذباتی ہوگئے
اداکار گُرمیت چودھری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں راجپال یادو کی صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے فلمی برادری سے متحد ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ راجپال یادو نے ناظرین کو بے شمار خوشیاں فراہم کیں اور اب انہیں صنعت کی حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پروڈیوسرز، ہدایت کاروں اور دیگر فنکاروں سے مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
اداکار و ناقد کمال آر خان (کے آر کے) نے بھی 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا اور بالی ووڈ سے اپیل کی کہ مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے جمع کیے جائیں تاکہ راجپال یادو واجبات ادا کر کے جلد رہائی حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطلوبہ رقم ادا کر دی جائے تو قانونی پیچیدگیاں کم ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو 6 ماہ قید کیوں سنائی گئی؟
واضح رہے کہ یہ قانونی معاملہ 2010 سے چل رہا ہے جب راجپال یادو نے اپنی ہدایت کاری کی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے 5 کروڑ روپے قرض لیے تھے۔ فلم کی ناکامی کے بعد اداکار مالی مشکلات کا شکار ہوئے اور کئی چیک باؤنس ہو گئے جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی شروع ہوئی۔
اپریل 2018 میں مجسٹریٹ کی عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ کو نیگوٹیبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی سیکشن 138 کے تحت مجرم قرار دیا اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اداکار نے اس فیصلے کے خلاف متعدد اپیلیں دائر کیں، لیکن معاملہ طویل عرصے تک عدالت میں جاری رہا اور واجب الادا رقم تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے مشہور مزاحیہ اداکار راجپال یادیو قرض نہ چکانے پر پھر مشکل میں پڑگئے
اس دوران اداکار نے قرض کی کچھ رقم واپس کی جس میں 2025 میں 75 لاکھ روپے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ تاہم بار بار کی تاخیر پر عدالت نے ان کے ارادے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’سنجیدگی کی کمی‘ نظر آ رہی ہے۔
4 فروری 2026 کو جسٹس سوارنا کانتا شرما نے یادو کی حتمی درخواست کو یہ کہنے کے لیے مسترد کر دیا کہ انہیں فنڈز کے انتظام کے لیے ایک ہفتے کی مزید مہلت دی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بار بار نرمی نہیں دی جا سکتی، چاہے کوئی مشہور ہی کیوں نہ ہو اور اداکار کو فوراً سپرنڈر کرنے کا حکم دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ راجپال یادیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ راجپال یادیو اداکار راجپال راجپال یادو بالی ووڈ یادو نے کے لیے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار