کراچی میں بجلی سبسڈی نہ ملنے سے اسٹیل سیکٹر کو 150 ارب روپے کا نقصان، صنعت شدید دباؤ کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: کراچی میں بجلی کی اضافی سبسڈی جاری نہ ہونے کے باعث اسٹیل سیکٹر کو تقریباً 150 ارب روپے کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں صنعت شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
پیداواری لاگت میں اضافے اور حکومتی سہولت نہ ملنے سے کارخانوں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔
اسٹیل سیکٹر کی پیداوار میں نمایاں کمی اور نئی سرمایہ کاری میں رکاوٹ کے باعث ممکنہ روزگار کے مواقع بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف موجودہ ملازمتیں متاثر ہوں گی بلکہ آئندہ توسیعی منصوبے بھی تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز (PALSP) نے 9 فروری 2026 کو وزیرِ مالیات کو لکھے گئے خط میں اس معاملے کو فوری طور پر حل کرنے کی درخواست کی ہے۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کی اسٹیل صنعت ملک کی سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والی مینوفیکچرنگ صنعتوں میں شامل ہے، مگر کراچی میں قائم صنعتوں کو حکومتی اضافی بجلی سبسڈی فراہم نہیں کی گئی جس سے بھاری مالی نقصان ہوا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اگر سبسڈی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ حکام کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فنڈز کی کمی اس تاخیر کی وجہ نہیں تھی، تاہم صنعتکاروں نے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی