خواتین سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سائنس میں خواتین اور لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں پاکستانی خواتین کی صلاحیت، عزم اور حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ خواتین سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خواتین کو تعلیم اور سائنسی قیادت میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے CEDAW کے تحت اپنے وعدوں پر قائم ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ ملک کے جامعات میں خواتین طلبا کا تناسب 50 فیصد سے تجاوز کر جانا ایک خوش آئند امر ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی خواتین تعلیم اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی خواتین انجینئرنگ، میڈیکل ، کمپیوٹنگ اور بایوٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تحقیق کی قیادت کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ COMSTECH کے پلیٹ فارم کے تحت مسلم دنیا میں سائنسی تعاون کو فروغ دینے میں خواتین کا مؤثر کردار قابلِ ستائش ہے۔ صدرِ مملکت نے نرگس ماولوالا، تسنیم زہرا حسین اور مہیرہ عبدالغنی جیسی ممتاز سائنسدانوں کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ خواتین کی سائنسی پیش رفت سے صحت، ماحولیات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین پاکستان کے سائنسی مستقبل کو مزید مضبوط اور روشن بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے رہی ہیں
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔