WE News:
2026-07-23@23:47:57 GMT

انتخابات سے قبل کولمبین صدر پر فائرنگ کی منصوبہ بندی ناکام

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ہمراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کے دوران ایک مبینہ قاتلانہ حملے سے بال بال بچ گئے۔

سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو ناسیونال ڈی کولمبیا کے مطابق صدر پیٹرو نے منگل کے روز بتایا کہ ان کا ہیلی کاپٹر کولمبیا کے کیریبین ساحل پر ایک مقام پر لینڈ نہیں کر سکا کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ نامعلوم افراد ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی تیاری میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے منشیات فروشوں کی معاونت کا الزام لگا کر کولمبیا کے صدر اور اہل خانہ پر پابندی لگا دی

’گزشتہ رات میں لینڈ نہیں کر سکا کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ جس ہیلی کاپٹر میں میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا، اس پر فائرنگ کی جائے گی۔ حتیٰ کہ جہاں مجھے اترنا تھا وہاں لائٹس بھی آن نہیں کی گئیں۔‘

انہوں نے یہ بات صوبہ کوردوبا میں وزرا کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، صدر کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث انہیں اپنے سفری منصوبوں میں اچانک اور بڑی تبدیلیاں کرنا پڑیں۔

Details emerge on Colombian President Petro’s ASSASSINATION escape

President Petro says he had to FLEE BY SEA as his planned landing site was COMPROMISED — ‘I have been spending 2 days not in the arms of love, but escaping from being KILLED’ pic.

twitter.com/i35j9uRIFH

— RT (@RT_com) February 11, 2026

’میں قتل ہونے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہوں، اسی لیے میں گزشتہ رات وقت پر نہیں پہنچ سکا کیونکہ میں طے شدہ مقام پر لینڈ نہیں کر سکا، آج صبح بھی میں مقررہ مقام پر نہیں اتر سکا کیونکہ اطلاع تھی کہ ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی جائے گی۔’

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا ہیلی کاپٹر کئی گھنٹے تک کھلے سمندر کی جانب پرواز کرتا رہا، یہاں تک کہ کولمبین بحریہ کی مدد سے ایک متبادل مقام پر بحفاظت لینڈنگ ممکن ہو سکی، جس کے بعد ان کی سیکیورٹی اور سفری راستوں میں تبدیلی کی گئی۔

مزید پڑھیں: کولمبیا کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کھری کھری سنا دیں

ریڈیو ناسیونال ڈی کولمبیا کے مطابق صدر پیٹرو نے کہا کہ یہ واقعات انہیں مسلسل الرٹ حالت میں رکھے ہوئے ہیں، اور ان کا تعلق گزشتہ سال اکتوبر سے جاری دیگر سرگرمیوں سے بھی ہو سکتا ہے۔

صدر پیٹرو اس سے قبل بھی 2024 میں اپنے خلاف ایک مبینہ حملے کی اطلاع دے چکے ہیں، وہ ماضی میں یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اگست 2022 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایک منشیات فروش کارٹیل انہیں نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

یہ مبینہ قاتلانہ سازش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور چند ماہ بعد صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں آئینی پابندی کے باعث پیٹرو دوبارہ امیدوار نہیں بن سکتے، اسی دوران منگل کو ایک سینیٹر کے اغوا کا واقعہ بھی پیش آیا۔

مزید پڑھیں: کولمبیا کے صدارتی امیدوار میگوئل اُریبی کے نوعمر قاتل کو 7 سال قید کی سزا

ایک مقامی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار سینیٹر عائدہ کِلکیو کو جنوب مغربی صوبہ کاؤکا میں نامعلوم افراد نے دوپہر کے وقت اغوا کیا ہے، 53 سالہ سینیٹر اپنی گاڑی میں 2 باڈی گارڈز کے ہمراہ سفر کر رہی تھیں جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔

وزیر دفاع پیڈرو سانچیز کے مطابق بعد میں ایک مقامی محافظ دستے نے گاڑی تو برآمد کر لی، لیکن اس میں کوئی موجود نہیں تھا، صدر پیٹرو نے اغوا کاروں کو خبردار کیا کہ اگر سینیٹر کو رہا نہ کیا گیا تو وہ ’سرخ لکیر‘ عبور کرنے کے مترادف ہوگا۔

کچھ ہی دیر بعد وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ سینیٹر اور ان کے محافظوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ محفوظ ہیں، کولمبیا کی فوج نے ان کی رہائی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر جاری کیں۔

مزید پڑھیں: فلسطینیوں کے حق میں احتجاج سے خطاب کرنے پر امریکا نے کولمبیا کے صدر کا ویزا منسوخ کردیا

گزشتہ ہفتے بھی وینزویلا کی سرحد کے قریب اراوکا کے علاقے میں ایک سینیٹر کے قافلے پر حملے میں ان کے 2 محافظ ہلاک ہو گئے تھے، تاہم سینیٹر اس وقت گاڑی میں موجود نہیں تھے۔

ایک کولمبین مبصر گروپ کے مطابق حالیہ ہفتے میں ملک کے قومی علاقے کا تقریباً ایک تہائی یعنی 300 سے زائد بلدیاتی علاقے انتخابی تشدد کے خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ 8 مارچ کو پارلیمانی اور 31 مئی کو صدارتی انتخابات منعقد ہونا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسانی حقوق باڈی گارڈز فائرنگ قاتلانہ حملے کولمبیا گستاوو پیٹرو لینڈنگ ہیلی کاپٹر وزرا کونسل وزیر دفاع

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: باڈی گارڈز فائرنگ قاتلانہ حملے کولمبیا لینڈنگ ہیلی کاپٹر وزرا کونسل وزیر دفاع کولمبیا کے صدر پر فائرنگ کی ہیلی کاپٹر سکا کیونکہ صدر پیٹرو پیٹرو نے کے مطابق

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان