ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا تذکرہ، 10 طیارے تباہ ہونے کا نیا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ تھی اور ان کے بقول یہ جوہری جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی، وہ واقعی آمنے سامنے تھے، 10 طیارے تباہ ہو چکے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے 8 جنگیں ختم کرائیں، جن میں سے کم از کم 6 ٹیرف کی وجہ سے رکیں، میں نے کہا اگر تم جنگ بند نہیں کرو گے تو میں تم پر ٹیرف عائد کر دوں گا، کیونکہ میں لوگوں کو مرتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ تھی اور ان کے بقول یہ جوہری جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی، وہ واقعی آمنے سامنے تھے، 10 طیارے تباہ ہو چکے تھے، حالات بہت سنگین تھے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے جوہری جنگ روکنے میں ان کے کردار کو سراہا اور اعتراف کیا کہ میں نے خطے میں کشیدگی کم کرا کے کم از کم ایک کروڑ جانیں بچائیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 3 دہائیوں سے جاری تنازع کو ڈیڑھ دن میں ختم کرایا، ان کے مطابق انہوں نے متعلقہ ممالک کو واضح پیغام دیا کہ اگر لڑائی جاری رہی تو امریکا تجارتی اقدامات کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔