افضل گورو اور مقبول بٹ کے یوم شہادت پر کشمیر سنٹر لاہور کے زیراہتمام پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
مقررین کا کہنا تھا کہ بھارتی عدالت نے اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے شہداء کو غیر قانونی طور پر پھانسی دے کر ثابت کر دیا کہ بھارت کے ہاں آئین، قانون، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ معروف کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کے یوم شہادت پر کشمیر سنٹر لاہور کے زیراہتمام پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مقررین نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کو غیر قانونی طور پر پھانسی دیے جانے پر بھارت کی مذمت کی اور اس اقدام کو انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیری حریت پسندوں کو پھانسی دینے کے اپنے فیصلے میں اعتراف کیا تھا کہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ بھارتی عدالت نے اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے شہداء کو غیر قانونی طور پر پھانسی دے کر ثابت کر دیا کہ بھارت کے ہاں آئین، قانون، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں۔ مقبول بٹ اور افضل گورو تحریک آزادی کشمیر کے روشن اور جگمگاتے ستارے تھے جنہوں نے اپنے مادر وطن کی آزادی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک جانب بھارتی سپریم کورٹ نے ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کا اعتراف کیا لیکن دوسری جانب اس نے سزائے موت بھی سنا دی۔ یہ کیسا انصاف اور کیسا قانون ہے۔مقررین نے کہا کہ مقبول بٹ اور افضل گورو نے تختہ دار پر لٹک کر دنیا کو بتا دیا کہ کشمیری آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افضل گورو شہید اور مقبول بٹ شہید کے جسدخاکی کو دہلی کی تہاڑ جیل کے قبرستان سے نکال کر کشمیریوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ انہیں اپنی سرزمین میں دفن کر سکیں۔
احتجاجی مظاہرے سے سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی غلام عباس میر، انچارج کشمیر سنٹر انعام الحسن کاشمیری، سابق ایم پی اے فرزانہ بٹ، ممتاز لیگی رہنما بیگم صفیہ اسحاق، ممتاز عالم دین علامہ عاشق حسین، سیکرٹری کشمیر ایکشن کمیٹی فاروق آزاد، کیپٹن مشتاق، پروفیسر اسماء حسن شیخ، کشمیری رہنما نازیہ بٹ، رہنما محاذ رائے شماری آفتاب نازکی، ممتاز عالم دین علامہ مشتاق قادری، معروف دانشور نذر بھنڈر، شیخ امجد اقبال، محمود اے ترازی اور دیگر نے خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقبول بٹ اور افضل گورو
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔