پی ایس ایل کی تاریخ کا پہلا پلیئرز آکشن کچھ دیر بعد
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ کے پہلے پلیئرز آکشن اب سے کچھ دیر بعد ہوں گے۔
مختلف ٹیمیں کھلاڑیوں کی بولیاں لگا کر پی ایس ایل 11 سے قبل اپنا اسکواڈ مکمل کریں گی، ٹیمیں آکشن کے ذریعے کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 21 کھلاڑیوں کا اسکواڈ بناسکیں گی۔
16 رکنی اسکواڈ میں 5 غیر ملکی ہونا لازمی ہے جبکہ 21 رکنی اسکواڈ میں 7 غیر ملکی پلیئرز ہوسکتے ہیں اور اسکواڈ میں کم از کم 2 انڈر 23 پلیئرز کی شمولیت لازمی ہے۔
پی ایس ایل 11 کے پلیئرز آکشن میں 880 کھلاڑی رجسڑڈ ہیں جبکہ ٹیموں کو اپنے اسکواڈ مکمل کرنے کے لیے 50 کروڑ 50 لاکھ روپے کا بجٹ حاصل ہو گا اور ری ٹین اور ڈائریکٹ سائننگ کے معاوضے بجٹ میں شامل ہوں گے
پلیئرز آکشن کے لیے مہمانوں کی لاہور میں ایکسپو سینٹر آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
لاہور قلندر کے سی ای او عاطف رانا کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کا بخار سر چڑھ کر بول رہا ہے، ہمیں خوشی ہو گی اگر پلیئر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے ہمارے کھلاڑی ہمیں ملیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی پی کے پلیئرز نہیں ملے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں، لاہور قلندر سارا سال کام کرتا ہے، ہماری 10 سال کی محنت ہے، شاہین ہمارے دل میں موجود ہے۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد مارچ میں ہوگا اور ایونٹ میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد اس میں شریک ٹیموں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پلیئرز آکشن پی ایس ایل
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔