اسلام آباد ہائیکورٹ نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال سے پیدا ہونے والے نقصانات کے تحفظ کے حوالے سے وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم 3 مارچ 2026 تک جواب جمع کرانے کے لیے دیا ہے۔

یہ کارروائی اکبر خان شنواری کی والد کی درخواست پر ہوئی، جس میں کم عمر بچوں کے آن لائن تحفظ کے اقدامات اور ریگولیٹری فریم ورک کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھیں۔ عدالت نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا۔

مزید پڑھیں: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے والی 8ویں کی طالبہ کون؟

حکم نامے میں عدالت نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور پیمرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ پیرا وائز کمنٹس جمع کرائیں۔ عدالت نے وفاقی اداروں سے کہا ہے کہ وہ درج ذیل نکات پر معلومات فراہم کریں:

سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام اور اس کی پیشرفت
سوشل میڈیا کے استعمال، مانیٹرنگ اور PECA کی حالیہ ترامیم پر عمل درآمد کی تفصیل
کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے بنایا گیا ریگولیٹری فریم ورک
بچوں کی عمر کے جائزے کے میکانزم اور حفاظتی اقدامات
بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ

مزید پڑھیں: آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا

عدالت نے زور دیا کہ بچوں کو آن لائن نقصانات سے تحفظ فراہم کرنا انتہائی اہم ہے اور بغیر کسی ریگولیشن کے سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے خطرناک اور ذہنی صحت و پرائیویسی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ دنیا بھر میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے قوانین موجود ہیں اور پاکستان میں بھی مناسب اقدامات کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے واضح اور عملی ریگولیٹری اقدامات ضروری ہیں اور حکومت کی جانب سے بروقت جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ہائیکورٹ اکبر خان شنواری جواب طلب سوشل میڈیا استعمال سوشل میڈیا پابندی کم عمر بچے وفاقی حکومت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ اکبر خان شنواری جواب طلب سوشل میڈیا استعمال سوشل میڈیا پابندی کم عمر بچے وفاقی حکومت کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے عدالت نے تحفظ کے کے لیے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل