Juraat:
2026-07-23@23:27:51 GMT

نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

محمد آصف

ہمارے معاشرے میں تعلیم کو اکثر صرف نمبروں اور گریڈز کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے ۔ جو بچہ اچھے نمبر لے آئے وہ ذہین سمجھا جاتا ہے اور جو پیچھے رہ جائے اسے فوراً نالائق کا لیبل دے دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بچہ پیدائشی طور پر نالائق نہیں ہوتا۔ ہر بچہ ایک بند کلی کی مانند ہے جس کے کھلنے کے لیے محبت، رہنمائی اور صحیح حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے ۔ اگر کوئی طالب علم پڑھائی میں کمزور ہے تو یہ اس کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی دعوت ہے ۔ مناسب توجہ، درست ماحول اور مثبت تربیت کے ذریعے ہر بچے کو ایک چمکتا ستارہ بنایا جا سکتا ہے ۔
سب سے پہلے ہمیں بچے کی نفسیاتی بحالی پر توجہ دینی چاہیے ۔ الفاظ میں بڑی طاقت ہوتی ہے ، اس لیے بچے کو نالائق یا نکمّا کہنا اس کی خود اعتمادی کو اندر سے توڑ دیتا ہے ۔ اسی طرح مسلسل موازنہ، جیسے”فلاں بچے کو دیکھو”، بچے کے دل میں احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے ۔ ضروری ہے کہ ہم بچے کے دل سے ناکامی کا خوف نکالیں اور اسے یقین دلائیں کہ کوشش کرنا اس کا کام ہے جبکہ نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے ۔ چھوٹی
چھوٹی کامیابیوں کو سراہنا، اس کی بات توجہ سے سننا اور اس کے دوست بن کر رہنا بچے میں اعتماد پیدا کرتا ہے ۔ سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے گریز کرنا اور اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے ، کیونکہ بااعتماد بچہ ہی سیکھنے کے لیے تیار ہوتا ہے ۔
ایک مضبوط ذہن کے لیے صحت مند ماحول بھی لازمی ہے ۔ گھر میں پڑھائی کے لیے ایک پرسکون گوشہ مختص کرنا چاہیے جہاں شور شرابہ نہ ہو۔ مناسب نیند بچے کے دماغ کو تروتازہ رکھتی ہے ، اس لیے کم از کم آٹھ گھنٹے کی نیند ضروری ہے ۔ موبائل فون کو مکمل طور پر چھین لینے کے بجائے اس کے استعمال کا وقت مقرر کرنا زیادہ مؤثر ہے ، اور والدین کو بھی اس مثال پر عمل کرنا چاہیے ۔ متوازن غذا، خاص طور پر ناشتہ، بچے کی جسمانی اور ذہنی توانائی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ کھیل کود سے نہ صرف جسم مضبوط ہوتا ہے بلکہ دماغ کو بھی تازگی ملتی ہے ۔ پانی کا مناسب استعمال، اور نظر و سماعت کا باقاعدہ چیک اپ بھی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بچہ کسی پوشیدہ جسمانی مسئلے کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔
پڑھائی کے طریقے میں جدت لانا بھی بے حد اہم ہے ۔ محض رٹا لگوانے کے بجائے بچے کو سمجھنے اور سمجھانے کی ترغیب دینی چاہیے ۔ بڑے اسباق کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے سے کام آسان محسوس ہوتا ہے ۔ ٹائمر تکنیک، جس میں پچیس منٹ پڑھائی اور پانچ منٹ آرام شامل ہے ، بوریت کم کرتی ہے ۔ رنگین نوٹس اور ہائی لائٹر کا استعمال یادداشت کو مضبوط بناتا ہے ، جبکہ لکھ کر یاد کرنا سیکھنے کے عمل کو پختہ کرتا ہے ۔ مشکل مضامین کو کہانی کی شکل میں پیش کرنا بچے کی دلچسپی بڑھاتا ہے ۔ روز کا کام روز مکمل کرنا عادت بنانا چاہیے تاکہ بوجھ جمع نہ ہو۔ اسی طرح پرانے امتحانی پرچوں کی مشق امتحان کے خوف کو کم کرتی ہے اور اعتماد میں اضافہ کرتی ہے ۔تعلیم صرف ذہن کی نہیں بلکہ روح کی بھی پرورش کرتی ہے ۔ بچے کو دعا کی عادت ڈالنا، جیسے”ربی زدنی علما” کا ورد، اسے اللہ پر بھروسہ سکھاتا ہے ۔ اساتذہ کے ادب اور احترام کی تعلیم دینا بچے کے کردار کو سنوارتا ہے ۔ صدقہ کرنے کی عادت ہمدردی اور مثبت سوچ کو فروغ دیتی ہے ۔ سب سے بڑھ کر، بچے کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف اچھی نوکری حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک بااخلاق اور ذمہ دار انسان بننا ہے ۔
اس پورے عمل میں والدین اور اساتذہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ سب سے اہم چیز صبر ہے ، کیونکہ تبدیلی ایک تدریجی عمل ہے ۔ والدین کو اپنی توقعات حقیقت پسندانہ رکھنی چاہئیں اور ہر بچے کی منفرد صلاحیت کو پہچاننا چاہیے ۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان مسلسل رابطہ بچے کی ترقی کے لیے ضروری ہے ۔ سب سے مؤثر تعلیم وہ ہے جو مثال سے دی جائے ؛ اگر والدین خود مطالعہ کریں گے تو بچہ بھی کتاب سے دوستی کرے گا۔ان اصولوں کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مرحلہ وار منصوبہ اپنایا جا سکتا ہے ۔ پہلے ہفتے میں بچے کے ساتھ تعلق مضبوط کیا جائے اور پڑھائی کا دباؤ کم رکھا جائے تاکہ اس کا خوف ختم ہو۔ دوسرے ہفتے میں سونے جاگنے اور مختصر پڑھائی کا باقاعدہ شیڈول بنایا جائے۔ تیسرے ہفتے میں آسان اہداف مقرر کیے جائیں اور کامیابی پر حوصلہ افزائی کی جائے ۔ چوتھے ہفتے میں بتدریج مشکل مضامین شامل کیے جائیں اور پڑھائی کا وقت بڑھایا جائے ۔ اس طرح ایک منظم اور مثبت عمل کے ذریعے بچہ آہستہ آہستہ اعتماد حاصل کرتا ہے ۔
آخر میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بچہ ایک قیمتی ہیرا ہے جسے صرف مناسب تراش خراش کی ضرورت ہے ۔ جب ہم اس پر یقین کرتے ہیں اور اسے محبت، رہنمائی اور صبر کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں تو وہ اپنی صلاحیتوں کے آسمان کو چھو سکتا ہے ۔ یہ سفر یقیناً آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ درست توجہ اور حکمت عملی کے ساتھ ہم ہر کمزور طالب علم کو ایک روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں، کیونکہ حقیقت یہی ہے
کہ”نالائق”کوئی نہیں ہوتا ، صرف توجہ کی کمی ہوتی ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ضروری ہے ہفتے میں کرتا ہے کرتی ہے کے لیے بچے کو بچے کی بچے کے اور اس

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن